حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 161 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 161

161 ایک پادری صاحب نے ۱۳ مارچ ۱۸۸۲ء کے پرچہ نورافشاں میں یہ سوال پیش کیا کہ حیات ابدی کی نسبت کتاب مقدس میں کیا نہ تھا کہ قرآن یا صاحب قرآن لائے اور قرآن کن کن امروں اور تعلیمات میں انجیل پر فوقیت رکھتا ہے۔تا یہ ثابت ہو کہ انجیل کے اترنے کے بعد قرآن کے نازل ہونے کی بھی ضرورت تھی۔اسی طرح ایک عربی رسالہ موسوم بہ ” عبد المسیح بن اسحاق الکندی اسی غرض سے افترا کیا گیا کہ تا انجیل کی ناقص اور آلودہ تعلیم کو سادہ لوحوں کی نظر میں کس طرح قابل تعریف ٹھہرایا جاوے اور قرآنی تعلیم پر بے جا الزامات لگائے جائیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت جوش میں آئی اور آپ نے قرآن کریم کی تعلیم سے ایک ذرہ کا ہزارم حصہ نقص نکالنے یا قرآن کریم کے بالمقابل کسی دوسری الہامی کتاب سے کسی ایسی خوبی کے پیش کرنے پر جو قرآنی تعلیم کے برخلاف ہو اور اس سے بہتر ہو تو آپ سزائے موت قبول کر لیں گے۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔اگر کوئی شخص ایک ذرہ کا ہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں کچھ نکال سکے یا اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرہ خوبی ثابت کر سکے کہ جو قر آنی تعلیم کے برخلاف ہواور اس سے بہتر ہو تو ہم سزائے موت بھی قبول کرنے کو طیار ہیں۔اب منصفو!! نظر کرو۔اور خدا کے واسطے ذرہ دل کو صاف کر کے سوچو کہ ہمارے مخالفوں کی ایمانداری اور خداترسی کس قسم کی ہے کہ باوجود لا جواب رہنے کے پھر بھی فضول گوئی سے باز نہیں آتے۔نور حق دیکھو راہ حق پاؤ آؤ عیسائیو ادھر آؤ جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ “ (براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد نمبر اصفحہ ۲۹۸-۲) عقائد حقہ کے اثبات میں کوئی ایسی دلیل جس کے پیش کرنے سے قرآن غافل رہا ہو پیش کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔