حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 159 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 159

159 قرآن کریم کا دیگر مقدس کتب سے مقابلہ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اصل غرض قرآن کریم کی تبلیغ واشاعت اور دیگر ادیان کی مقدس کتب پر اس کی عظمت کو قائم کرنا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی قرآن کریم ہی آپ کی تمام تر توجہ کا مرکز بنارہا جس کا اندازہ آپ کے اس شعر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے جس وقت آپ کی بعثت ہوئی یہ وہ زمانہ تھا جبکہ آریہ سماج، برہمو سماج اور عیسائی تحریکیں بڑی متحرک تھیں اور ان کا سارا ز ور مسلمانوں کے خلاف صرف ہو ر ہا تھا۔اور قرآن کریم اور بانی اسلام پر ہر طرف سے بارش کے قطروں کی مانند اعتراضات ہو رہے تھے۔مسلمان مخالفین اسلام کے حملوں کے آگے بالکل بے دست و پا شخص کی مانند ہوکر رہ گئے تھے اور خود مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ سے قطعاً نا امید اور اس کی دوبارہ زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔اور قرآن مجید کی حقانیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت خود مسلمان کہلانے والوں پر مشتبہ ہو رہی تھی اور کئی ان میں سے عیسائیت کی آغوش میں آ گرے تھے۔ایسے حالات میں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے یہ بانگ دہل یہ اعلان فرمایا کہ:۔خداوند تعالیٰ نے اس احقر عباد کو اس زمانہ میں پیدا کر کے اور صد ہانشان آسمانی اور خوارق غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صد با دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیمات حقہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرمائے اور اپنی حجت ان پر پوری کرے۔۔۔اور ہر ایک مخالف اپنے مغلوب اور لا جواب ہونے کا آپ گواہ ہو جائے۔“ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اصفحہ ۵۹۶=ح-ح)