حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 118
118 اس سے ظاہر ہونا تھا یعنی پیر مہر علی شاہ کی علمی پردہ دری ہونی تھی اس لئے حضور نے اسے شائع فرما دیا اور اس بات کی ہرگز پروانہ کی کہ کرم الدین کی پیر صاحب کے مرید مخالفت کریں گے۔چنانچہ حضور لکھتے ہیں۔مولوی کرم دین صاحب کو سہواً اس طرف خیال نہیں آیا کہ شہادت کا پوشیدہ کرنا سخت گناہ ہے جس کی نسبت آثـم قلبہ کا قرآن شریف میں وعید موجود ہے۔لہذا تقویٰ یہی ہے کہ کسی لومتہ لائم کی پروا نہ کریں اور شہادت جو اپنے پاس ہو ادا کریں۔سو ہم اس بات سے معذور ہیں جو جرم اخفا کے ممد و معاون بنیں اور مولوی کرم دین صاحب کا یہ اخفا خدا کے حکم سے نہیں ہے صرف دلی کمزوری ہے۔خدا ان کو قوت ( نزول المسیح صفحہ ۷۷،۷۶۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۵۵) 66 جب یہ ساری کاروائی منصہ شہود پر آگئی تو اس سے پیر صاحب کی شہرت علمی و عملی کا پردہ بالکل چاک ہو گیا اور انہوں نے مولوی کرم دین صاحب کی اپنے مریدوں کے ذریعہ مخالفت شروع کر دی۔مولوی کرم دین صاحب جو ایک کمزور طبیعت کے آدمی تھے انہوں نے خیر اسی میں سمجھی کہ اپنے خطوط کا ہی انکار کر دیں۔چنانچہ انہوں نے سراج الاخبار، جہلم مورخہ ۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء اور ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں یہ شائع کروایا کہ یہ خطوط جعلی اور بناوٹی ہیں۔چنانچہ یہ خطوط بڑی لمبی مقدمہ بازی کا موجب ہوئے جن کا ذکر حیات طیبہ مولفہ حضرت شیخ عبدالقادر صاحب مرحوم سابق سوداگر مل صفحه ۲۴۸ تا ۲۵۵ میں مفصل بیان کیا گیا ہے۔بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پیرمہر علی گولڑ وی صاحب کے مابین معرکہ حق و باطل اس طرح اختتام کو پہنچا کہ ہر مکر جو پیر صاحب نے حضرت مسیح موعود کے خلاف استعمال کیا خدا تعالیٰ نے انہیں پر الٹا دیا اور ان کے ہر فریب کے پردے چاک کر دیئے۔ہر ہتھیار جس سے پیر صاحب نے حملے کی کوشش کی خود انہیں کو گھائل کر گیا۔خصوصاً سیف چشتیائی کا خود اپنے ہی