حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 99 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 99

99 کہ آپ کی شرائط منظور ہیں مگر قرآن و حدیث کی رو سے آپ کے عقائد کی نسبت بحث ہونی چاہئے۔پھر اگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ساتھ کے دو مولویوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ آپ اس بحث میں حق پر نہیں ہیں تو آپ کو میری بیعت کرنی پڑے گی۔پھر اس کے بعد تفسیر لکھنے کا مقابلہ بھی کر لینا۔(ملخص از اشتهار ۲۵ اگست ۱۹۰۰ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد دوم) ظاہر ہے تفسیر نویسی کے مقابلہ سے گریز کرنے کی یہ ایک راہ تھی جو پیر صاحب نے اپنے مریدوں کی عقلوں پر پردہ ڈالنے کے لئے نکالی۔ورنہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ عقاید کے بارہ میں حضرت اقدس کا مولومی محمد حسین صاحب اور ان کے ساتھی مولویوں کو منصف مان لینا کیا معنی رکھتا تھا۔وہ لوگ تو عقاید کے معاملہ میں آپ پر کفر کے فتوے لگا کر اپنا فیصلہ پہلے ہی دے چکے تھے اور اب وہ اپنے عقائد کے خلاف کس طرح کوئی بات کر سکتے تھے۔لیکن تفسیر نویسی میں مقابلہ ایک بالکل دوسری صورت رکھتا تھا۔وہ اپنے غلط عقائد پر تو جو ان کے خیال میں صحیح تھے بلا تر دو قسم کھا سکتے تھے لیکن دونوں تفسیروں میں سے جو تفسیر غالب نہ ہو اس کے غلبہ کو چھپانا اور خلاف رائے ظاہر کرنا دوسرے اہل علم کی نظر میں ان کی علمی پردہ دری کرنے والا امر تھا۔اس لئے تفسیر کے متعلق وہ غلط رائے نہیں دے سکتے تھے۔علاوہ ازیں پیر صاحب یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت اقدس اپنی کتاب ”انجام آتھم میں یہ عہد کر چکے ہیں کہ آئیند ہ آپ علمائے زمانہ سے منقولی بحثیں نہیں کریں گے پھر آپ اپنے اس عہد کو کیسے توڑ سکتے تھے؟ پھر یہ بات کتنی معقولیت سے ور ہے جو پیر صاحب نے کی کہ بحث عقاید کے بعد مخالف مولویوں سے فیصلہ کرالو اور پھر جب وہ فیصلہ تمہارے خلاف کر دیں تو تو بہ کر کے میری بیعت کرو۔اس کے بعد تفسیر نویسی میں مقابلہ کرو۔بھلا اس صورت میں مخالف علماء کے حضرت اقدس کے خلاف رائے ظاہر کرنے پر جب آپ اپنی تمام کتابیں جلا دیں اور بیعت کر لیں تفسیر نویسی میں مقابلہ کا کونسا موقع ہوتا؟ کیا کوئی دور