حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 100 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 100

100 شخص مرید بن کر پھر اپنے پیر سے بحث کر سکتا ہے؟ پیر صاحب تو یہ سمجھتے ہوں گے کہ انہوں نے تفسیر نویسی کے مقابلہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ایک عمدہ بہانہ تلاش کر لیا ہے مگر اہل فہم ان کی اس تجویز پر جتنے بھی متاسف ہوئے ہوں گے، کم ہے۔گولڑوی صاحب کی ہوشیاری پیر صاحب نے جب دیکھا کہ تفسیر نویسی میں مقابلہ تو ممکن نہیں اپنے مریدوں خصوصاً سرحدی مریدوں میں اپنی عزت و شہرت کو قائم رکھنا بھی ضروری ہے اس لئے لاہور میں یہ مشہور کرا دیا کہ ہم نے مرزا صاحب کی تمام شرائط منظور کر لی ہیں اور ہم تقریری بحث کرنے کیلئے حسب پروگرام لاہور آنے والے ہیں۔حالانکہ حضرت اقدس چار سال قبل انجام آتھم “ میں تقریری بحثوں کو فضول سمجھ کر اس امر کا عہد کر چکے تھے کہ اب تقریری بحثیں نہیں کریں گے مگر پیر صاحب کو سستی شہرت درکار تھی۔ان کے مریدوں نے لاہور کے گلی کوچوں میں پیر صاحب کی آمد آمد کا خوب ڈھنڈورا پیٹا اور حضرت اقدس اور آپ کی جماعت کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے اور لوگوں کو احمدیوں کی مخالفت پر اکسایا۔اگر پیر صاحب اور ان کے مریدوں میں ذرا بھی خدا کا خوف ہوتا تو وہ کبھی بھی ایسا جھوٹ مشہور نہ کرتے کہ گویا حضرت اقدس نے تقریری بحث کو منظور فرمالیا ہے۔حضرت اقدس نے تو پیر صاحب کو تفسیر نویسی کے مقابلہ کے لئے بلایا تھا مگر اس کا ان کے مرید نام بھی نہیں لیتے تھے۔گولڑوی صاحب کی لاہور آمد پیر صاحب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ حضرت اقدس نے انہیں تفسیر نویسی میں مقابلہ کیلئے بلایا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ہم نے تفسیر نویسی میں مقابلے کے ذکر کو چھوڑ کر اپنی طرف سے عقاید کی بحث منظور کر لینا حضرت اقدس کی طرف سے مشہور کر دیا ہے جو واقعہ کے سراسر خلاف