حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 98
98 اپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی عبارت اعلی درجہ پر اور تائید الہی سے ہے۔۔۔۔۔پس اس طرز کے مباحثہ اور اس طرز کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب تفسیر اور عربی نویسی میں تائید یافتہ لوگوں کی طرح ہیں اور مجھ سے یہ کام نہ ہو سکا یا مجھ سے بھی ہو سکا مگر انہوں نے بھی میرے مقابلہ پر ایسا ہی کر دکھایا تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں اقرار کرلوں گا کہ حق پیر مہرعلی شاہ صاحب کے ساتھ ہے اور اس صورت میں میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اپنی تمام کتابیں جو اس دعوی کے متعلق ہیں جلا دوں گا اور اپنے تئیں مخذول اور مردود سمجھ لوں گا لیکن اگر میرے خدا نے اس مباحثہ میں مجھے غالب کر دیا اور مہر علی شاہ صاحب کی زبان بند ہوگئی نہ وہ فصیح عربی پر قادر ہو سکے اور نہ وہ حقائق و معارف سورۃ قرآنی میں سے کچھ لکھ سکے یا یہ کہ اس مباحثہ سے انہوں نے انکار کر دیا تو ان تمام صورتوں میں ان پر واجب ہوگا کہ وہ تو بہ کر کے مجھ سے بیعت کریں اور لازم ہوگا کہ یہ اقرار صاف صاف لفظوں میں بذریعہ اشتہار دس دن کے عرصہ میں شائع کر دیں۔“ (اشتہار ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء از مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۳۳۲ تا ۳۳۵) گولڑوی صاحب کا جواب پیر مہر علی شاہ صاحب نے جب اس اشتہار کو پڑھا تو سخت گھبرائے کیونکہ وہ نہ تو علمی قابلیت رکھتے تھے کہ مقابلہ پر تیار ہو جاتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی مقبولیت پر بھروسہ تھا کہ اس کی بنا پر مقابلہ کی جرات کرتے مگر کہلاتے تھے سجادہ نشین اور قطب اور ولی۔اس لئے کھلے کھلے انکار میں ان کی قطبیت اور علمیت پر داغ لگتا تھا۔اس لئے ایک ایسی چال چلے کہ مقابلہ کی نوبت بھی نہ آئے اور کام بھی بن جائے۔اور وہ چال یہ تھی کہ انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا