حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 40
40 یہی محاورہ تمام حدیثوں اور جمیع اقوال رسول اللہ ﷺ میں پایا جاتا ہے۔جب سے دنیا میں عرب کا جزیرہ آباد ہوا ہے اور عربی زبان جاری ہوئی ہے کسی قول قدیم یا جدید سے ثابت نہیں ہوتا کہ توفی کا لفظ کبھی قبض جسم کی نسبت استعمال کیا گیا ہو بلکہ جہاں کہیں تو فی کے لفظ کو خدائے تعالیٰ کا فعل ٹھہرا کر انسان کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ صرف وفات دینے اور قبض روح کے معنی پر آیا ہے نہ قبض جسم کے معنوں میں۔کوئی کتاب لغت کی اس کے مخالف نہیں۔کوئی مثل اور قول اہل زبان کا اس کے مغائر نہیں غرض ایک ذرہ احتمال مخالف کے گنجائش نہیں۔اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول الله الله یا اشعار وقصائد و نظم ونثر قدیم وجدید عرب سے ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجر قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ 66 ایک ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کی کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۳،۴۰۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توفی کے متعلق یہ چیلنج اپنی متعدد کتب میں بار بار دہرایا ہے۔وبوجـه اللـه وعـزتـه انی قرات کتاب الله آيةً آيةً وتدبرت فيه ثم قرات كتب الـحـديـث بـنـظـر عميق وتدبرت فيها فما وجدت لفظ التوفي في القرآن ولا فى الاحاديث اذا كان الله فاعله واحد من الناس مفعولا به الا بمعنى الامانت وقبض الروح ومن يثبت خلاف تحقيقى هذا فله الف من الدارهم المروجت انعاما منی کذلک و عدت في كتبي التي طبعتها