حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 39
39 مشتقات کا انتخاب فرمایا ہے۔مگر حیات مسیح کے بعض قائلین دونوں مقامات میں وفات کی بجائے پورا پورا لینا مراد لیتے ہیں۔تاکہ وہ صرف اور صرف حضرت عیسی علیہ السلام کا جسم عنصر کے ساتھ آسمان پر زندہ اٹھایا جانا ثابت کر سکیں۔جو کہ محاورہ عرب اور سیاق کلام کے اعتبار سے کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اس صورتحال کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام میں ان دونوں صیغوں مُتَوَفِّيكَ اور تَوَفَّيْتَنِی کے مصدر توفی کے استعمال کے متعلق ایک چیلنج دیا جو حسب ذیل ہے۔تمام مسلمانوں پر واضح ہو کہ کمال صفائی سے قرآن کریم اور حدیث رسول اللہ ہے سے ثابت ہو گیا ہے کہ درحقیقت حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام برطبق آيت فيها تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ (الاعراف:۲۶) زمین پر ہی اپنی جسمانی زندگی کے دن بسر کر کے فوت ہو چکے ہیں۔اور قرآن کریم کی سولہ آیتوں اور بہت سی حدیثوں بخاری اور مسلم اور دیگر صحاح سے ثابت ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر آباد ہونے اور بسنے کے لئے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے اور نہ حقیقی اور واقعی طور پر دو موتیں کسی پر واقع ہوتی ہیں اور نہ قرآن کریم میں واپس آنے والوں کے لئے کوئی قانون وراثت موجود ہے۔با اینہمہ بعض علماء وقت کو اس بات پر سخت علو ہے کہ مسیح ابن مریم فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہی آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور حیات جسمانی دنیوی کے ساتھ آسمان پر موجود ہے اور نہایت بے باکی اور شوخی کی راہ سے کہتے ہیں کہ توفی کالفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنے وفات دینا نہیں ہے بلکہ پورا لینا ہے یعنی یہ کہ روح کے ساتھ جسم کو بھی لے لینا۔مگر ایسے معنے کرنا اُن کا سراسر افتراء ہے قرآن کریم کا عموما التزام کے ساتھ اس لفظ کے بارے میں یہ محاورہ ہے کہ وہ لفظ قبض روح اور وفات دے دینے کے معنوں پر ہر ایک جگہ اس کو استعمال کرتا ہے۔