حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 41
41 واشعتها للمنكرين وللذين يظنون ان لفظ التوفى لا يختص بقبض الروح والاماتت عند استعمال الله العبد من عبادہ بل جاء بمعنى عام في الاحاديث وكتاب رب العالمين۔" ( حمامۃ البشری۔روحانی خزائن جلدے صفحہ ۷۲۵ ) ترجمہ:۔میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے قرآن کریم کی ایک ایک آیت کو فکر اور تدبر سے پڑھا ہے۔پھر میں نے بڑی گہری نظر سے کتب احادیث کو پڑھا ہے اور ان میں غور و خوض کیا ہے۔میں نے قرآن کریم اور احادیث میں اللہ تعالیٰ کے فاعل اور کسی انسان کے مفعول بہ ہونے کی صورت میں ہر جگہ توفی کے لفظ کو موت اور قبض روح کے معنوں میں مستعمل پایا ہے۔اگر کوئی شخص میری اس تحقیق کو غلط ثابت کر دے تو میں اسے اپنی طرف سے رائج الوقت ہزار در ہم انعام دوں گا۔اسی طرح میں نے اپنی گزشتہ شائع ہونے والی کتب میں بھی منکرین اور ان لوگوں کے لئے جو توفی کے لفظ کو مذکورہ شرائط ( اللہ فاعل اور کسی ذی روح مفعول بہ ) ہونے کی صورت میں موت یا قبض روح کے معنوں میں استعمال کی بجائے قرآن اور احادیث میں عام معنوں میں استعمال پر یقین رکھتے ہیں وعدہ کیا ہے۔تریاق القلوب میں فرماتے ہیں :۔علاوہ اس کے جو شخص تمام احادیث اور قرآن شریف کا تتبع کریگا۔اور تمام لغت کی کتابوں اور ادب کی کتابوں کو غور سے دیکھے گا۔اسپر یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ یہ قدیم محاورہ لسان العرب ہے کہ جب خدا تعالیٰ فاعل ہوتا ہے اور انسان مفعول بہ ہوتا ہے تو ایسے موقعہ پر لفظ توفی کے معنے بجز وفات کے اور کچھ نہیں ہوتے۔اور اگر کوئی