حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 374
374 آپ نے حضرت باوانا تک کا سچا مسلمان ہونا ثابت کیا۔اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد ایک سکھ سردار جندرسنگھ نے ایک رسالہ لکھا جس کا نام ”خبط قادیانی کا علاج رکھا۔اس رسالہ میں اس نے حضرت باوانانک کے مسلمان ہونے سے انکار کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں۔اور آپ پر بے اصل تہمتیں لگا کر آپ کی شان میں گستاخی کی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سردار جندرسنگھ کو اس قضیئے کے حل کیلئے درج ذیل چیلنج دیا۔اب فیصلہ اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ اگر اپنے اس عقیدہ پر یقین رکھتے ہیں تو ایک مجلس عام میں اس مضمون کی قسم کھاویں کہ در حقیقت با وانا تک دین اسلام سے بیزار تھے اور پیغمبر اسلام علیہ السلام کو برا سمجھتے تھے اور نیز درحقیقت پیغمبر اسلام نعوذ باللہ فاسق اور بدکار تھے اور خدا کے بچے نبی نہیں تھے۔اور اگر یہ دونوں باتیں خلاف واقعہ ہیں تو اے قادر کرتار مجھے ایک سال تک اس گستاخی کی سخت سزا دے اور ہم آپ کی اس قسم پر پانسور و پیہ ایک جگہ پر جہاں آپ کی اطمینان ہو جمع کرا دیتے ہیں۔پس اگر آپ در حقیقت بچے ہوں گے تو سال کے عرصہ تک آپ کے ایک بال کا نقصان بھی نہیں ہوگا بلکہ مفت پانسور و پیہ آپ کو ملے گا اور ہماری ذلت اور روسی ہی ہوگی۔اور اگر آپ پر کوئی عذاب نازل ہو گیا تو تمام سکھ صاحبان درست ہو جائیں گے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۹۹) سردار صاحب نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہیں دیا۔