حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 136 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 136

136 حضرت بانی سلسلہ نے اپنی متعدد کتب میں اس دلیل کو اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش فرمایا ہے اور متعدد باب آنحضرت ﷺ کے زمانہ وحی ( جو تئیس سال بنتا ہے ) کے مطابق مہلت پانے والے مفتری کی نظیر پیش کرنے کیلئے چیلنج دیئے ہیں جو حسب ذیل ہیں۔ا۔کیا کوئی ایک نظیر بھی ہے کہ جھوٹے ملہم نے جو خدا پر افتراء کرنے والا تھا ایام افتراء میں وہ عمر پائی جو اس عاجز کو ایام دعوت الہام میں ملی ؟ بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو پیش کرو۔میں نہایت پر زور دعوے سے کہتا ہوں کہ دنیا کی ابتداء سے آج تک ایک نظیر بھی نہیں ملے گی۔“ ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۱۷۶) ۲۔اسی کتاب میں حضور آگے چل کر فرماتے ہیں۔" قرآن اور انجیل اور تورات نے یہی گواہی دی ہے۔عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے اور اس کے مخالف کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے ایک نظیر بھی پیش نہیں کر سکتا۔اور نہیں دکھلا سکتا کہ کوئی جھوٹا الہام کرنے والا ۲۵ برس تک یا ۱۸ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا ماموراور خدا کافرستادہ اپنا نام رکھا اور اس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا۔اور پھر وہ باوجود ان مجرمانہ حرکات کے پکڑا نہ گیا ؟ کیا کوئی امید کی جا سکتی ہے کہ کوئی ہمارا واقف اس سوال کا جواب دے سکتا ہے۔ہر گز نہیں۔“ ۳۔فرمایا۔ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۶۸،۲۶۷) میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک کے کسی مفتری کی نظیر دو جس نے پچیس (۲۵) برس پیشتر اپنی گمنامی کی حالت میں ایسی پیشگوئیاں کی ہوں اور یوں روز روشن کی طرح پوری ہوگئی ہوں۔اگر کوئی شخص ایسی نظیر پیش کر دے