حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 137 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 137

137 تویقیناً یاد رکھو کہ یہ سارا سلسلہ اور کاروبار باطل ہو جائے گا۔مگر اللہ تعالیٰ کے کاروبار کو کون باطل کر سکتا ہے۔یوں تکذیب کرنا اور بلاوجہ معقول انکار اور استہزاء یہ حرامزادے کا کام ہے۔کوئی حلال زادہ ایسی جرات نہیں کر سکتا۔“ ( ملفوظات جلد ۲ نیا ایڈیشن صفحه ۵۳۴)۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک کے کسی مفتری کی نظیر دو جس نے ۲۵ برس پیشتر اپنی گمنامی کی حالت میں ایسی پیشگوئیاں کی ہوں۔اگر کوئی شخص ایسی نظیر پیش کر دے تو یقیناً یا د رکھو کہ یہ سارا سلسلہ اور کاروبار باطل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کے کاروبار کو کون باطل کر سکتا ہے؟ یوں تکذیب کرنا اور بلا وجہ معقول انکار اور استہزاء یہ حرام زادے کا کام ہے کوئی حلال زادہ ایسی جرات نہیں کر (لیکچرلدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰) سکتا۔“ کیا کسی جھوٹے کیلئے آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں یا کبھی خدا نے کسی جھوٹے کو ایسی لمبی مہلت دی کہ وہ بارہ برس سے برابر الہام اور مکالمہ الہیہ کا دعویٰ کر کے دن رات خدا تعالیٰ پر افترا کرتا ہو اور خدا تعالیٰ اس کو نہ پکڑے بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو ایک تو بیان کریں ورنہ اس قادر منتم سے ڈریں۔جس کا غضب انسان کے غضب سے کہیں بڑھ کر ہے۔“ (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحه ۵) ۶۔فرمایا:۔”اے لوگو میری نسبت جلدی مت کرو اور یقیناً جانو کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔میں اسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔سمجھو اور سوچو کہ دنیا میں کس قدر مفتری ہوئے اور ان کا انجام کیا ہوا۔کیا وہ ذلت کے ساتھ بہت جلد ہلاک نہ کئے گئے۔پس اگر یہ کاروبار بھی انسانی