حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 135 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 135

135 فان العقل يجزم بامتناع اجتماع هذه الامور في غير الانبياء في حق من يعلم انه يفترى على الله ثم يمهله ثلاثا و عشرين سنة“ ( شرح عقائد نسفی مجتبائی ص ۱۰ اطبع محمدی) ترجمہ۔عقل اس بات پر کامل یقین رکھتی ہے کہ یہ امور ( معجزات اور اخلاق عالیہ وغیرہ) غیر نبی میں نہیں پائے جاتے نیز یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ یہ باتیں کسی مفتری میں جمع نہیں کرتا اور یہ بھی کہ پھر اس کو تئیس برس مہلت نہیں دیتا۔“ علامہ ابن القیم علیہ الرحمہ (المتوفی ۲۷۸ھ) نے ایک عیسائی کے سامنے یہی دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا۔" وهو مستمر في الافتراء عليه ثلاثة و عشرين سنة وهو مع ذالك يويده زاد المعاد جلد ۱ صفحه ۳۹، ۴۰۔طبع مطبعه الميمنيه بمصر) ترجمہ: یہ کس طرح ممکن ہے کہ جسے تم مفتری قرار دیتے ہو وہ مسلسل تئیس برس تک اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ بایں ہمہ اسے ہلاک کرنے کی بجائے اس کی تائید کرے۔مندرجہ بالا تمام حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص جھوٹا الہام بنا کر خدا کی طرف منسوب کرے تو وہ قتل ہو جاتا ہے اور چونکہ آنحضرت ﷺ جو صداقت کی کسوٹی ہیں آپ ۲۳ سال دعوئی وحی و الہام کے بعد زندہ رہے اس لئے کوئی جھوٹا مدعی الہام و وحی نبوت اتنا عرصہ زندہ نہیں رہ سکتا جتنا عرصہ آنحضرت ﷺ رہے۔پس قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت کے ماتحت بدلیل استقراء حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا دعوی ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی جھوٹے مدعی نبوت و الہام کو دعوی کے بعد تئیس سال کی مہلت نہیں ملی۔اور اگر کسی مدعی نبوت کو بعد از دعوئی وحی و الہام ۲۳ سال تک زندگی ملی تو وہ سچا ہے۔صل الله