چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 16 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 16

16 2 پانچ ارکان اسلام عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالحَج وَصَوْمِ رَمَضَانَ۔(صحيح البخاري كتاب الايمان باب دعاؤکم ایمانکم۔۔۔۔۔۔) ترجمہ: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی علم فرماتے تھے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے۔(۱) اس بات کی دل اور زبان سے گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی ہستی قابل پرستش نہیں اور یہ کہ محمد صلی للی کمک خدا کے رسول ہیں۔(۲) نماز قائم کرنا (۳) زکوۃ ادا کر نا (۴) بیت اللہ کا حج بجالانا اور (۵)رمضان کے روزے رکھنا۔تشریح یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں اُوپر والی حدیث ( یعنی پہلی حدیث) میں ایمان کی تشریح بیان کی گئی تھی وہاں موجودہ حدیث میں اسلام کی تشریح بیان کی گئی ہے اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ایمان عقیدہ کا نام ہے اور اسلام عمل کا نام ہے اور دین کی تکمیل کے لئے یہ