چالیس جواہر پارے — Page 15
15 (ششم) تقدیر خیر وشر پر ایمان لانا جو خدا کی طرف سے دنیا میں جاری شدہ قانون کی صورت میں قائم ہے یعنی اس بات پر یقین رکھنا کہ دنیاکا قانون قدرت اور قانون شریعت ہر دو خدا کے بنائے ہوئے قانون ہیں اور خدا ہی اس سارے مادی اور روحانی نظام کا بانی اور نگران ہے۔خدا نے ہر کام کے متعلق خواہ وہ روحانی ہے یا مادی یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ اگر یوں کرو گے تو اسکا اس اس طرح اچھا نتیجہ نکلے گا اور اگر یوں کروگے تو اس کا اس اس طرح خراب نتیجہ نکلے گا اور پھر خدا اپنے قانون کا مالک بھی ہے اور ایسے امور میں جو اس کی کسی بیان کردہ سنت یا وعدہ یا صفت اور پھر خدا کے خلاف نہ ہوں وہ اس قانون میں اپنے رسولوں اور نیک بندوں کی خاطر خاص حالات میں استثنائی طور پر تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔چنانچہ معجزات کا سلسلہ عموماً اسی استثنائی قانون سے تعلق رکھتا ہے۔