چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 2 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 2

2 جمع کرنے والے بزرگوں نے ایسے پختہ اصول مقرر کر دیئے ہیں کہ ان کے ذریعہ مناسب چھان بین کے ساتھ صحیح حدیثوں کو کمزور حدیثوں سے الگ کیا جا سکتا ہے۔حدیث بیان کرنے کا طریق حدیث بیان کرنے کا طریق عموماً یہ ہوتا تھا کہ جس صحابی نے آنحضرت صلی الم کی زبانِ مبارک سے کوئی بات سنی ہوتی تھی یا آپ کو کوئی کام کرتے دیکھا ہو تا تھا تو وہ اسے اشاعت علم کی غرض سے ایسے لوگوں تک پہنچاتا تھا جنہوں نے یہ بات نہیں سنی یا نہیں دیکھی ہوتی تھی یا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علم کا مبارک زمانہ نہیں پایا ہو تا تھا اور حدیث بیان کرنے کے الفاظ عموماً اس قسم کے ہوتے تھے کہ میں نے فلاں شخص سے یہ بات سنی ہے کہ اس نے آنحضرت صلی ایم کے فلاں صحابی سے سنا کہ اس نے فلاں موقع پر آنحضرت صلى ال علم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنایا یہ کام کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔اور پھر یہ لوگ اسی طریق پر ایمان تازہ کرنے کی غرض سے یا اشاعت علم کی غرض سے دوسرے لوگوں تک روایت پہنچاتے چلے جاتے تھے اور اس طرح راویوں کے ایک مسلسل اور با قاعدہ سلسلہ کے ذریعہ آنحضرت صلی الی یم کی احادیث بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے محفوظ ہو گئیں۔الله راویوں کے طبقات حدیث کے راوی کئی طبقات میں منقسم ہیں۔سب سے اوپر کا مسلمان راوی جس نے کوئی بات براہ راست آنحضرت صلی اللہ ظلم کے منہ سے سنی ہو یا آپ کو کوئی کام کرتے ہوئے خود