چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 3 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 3

3 اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو صحابی کہلاتا ہے۔اس سے نیچے کا راوی جو صحابی سے سن کر آگے روایت کرتا ہے۔محدثین کی اصطلاح میں تابعی کہلا تا ہے اور اس سے نیچے کا راوی تبع تابعی کہلا تا ہے اور اس کے بعد عام راویوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اسی طرح حافظہ اور سمجھ اور دیانت کے لحاظ سے بھی راویوں کے مختلف طبقات سمجھے جاتے ہیں۔حدیث کی مشہور کتابیں حدیث کی روایتیں عموماً دوسری صدی ہجری کے وسط سے لے کر تیسری صدی ہجری کے آخر تک جمع ہو کر کتابی صورتوں میں مرتب کرلی گئی تھیں۔حدیث کی کتابیں یوں تو بہت ہیں مگر ان میں سے چھ کتابیں خاص طور پر زیادہ صحیح اور زیادہ مستند سمجھی جاتی ہیں۔اس لئے ان چھ کتابوں کا نام صحاح ستہ (یعنی حدیث کی چھ صحیح کتابیں ) مشہور ہو گیا ہے۔ان چھ کتابوں کے نام یہ ہیں۔(1) صحیح بخاری: مرتبه امام محمد بن اسماعیل البخاری (ولادت ۱۹۴ھ وفات ۲۵۶ھ) امام بخاری کی یہ کتاب حدیث کی تمام کتابوں میں سب سے زیادہ صحیح اور سب سے زیادہ مستند سمجھی جاتی ہے اور امام بخاری کا ذاتی مقام بھی مسلمہ طور پر سب محد ثین میں بالا سمجھا گیا ہے اسی لئے صحیح بخاری کا نام اصح الکتب بعد کتاب اللہ (یعنی کتاب اللہ کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب) مشہور ہو گیا ہے۔