چالیس جواہر پارے — Page 107
107 میں یہ خطرہ بہت ہی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس میدان میں ایک دفعہ قدم رکھنے کے بعد اکثر انسان آگے بڑھنے سے رک نہیں سکتے اور رتی سے ماشہ اور ماشہ سے تولہ اور تولہ سے چھٹانک اور چھٹانک سے سیر کی طرف قدم بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ ہم نے کمال حکمت سے شراب اور دیگر نشہ آور چیزوں کی تھوڑی مقدار کو بھی حرام قرار دیا ہے تاکہ اس قسم کی خطر ناک بدیوں کا جڑھ سے استیصال کیا جاسکے۔دنیا میں لاکھوں انسان محض اس وجہ سے تباہ ہوئے ہیں کہ انہوں نے شروع شروع میں شراب کے چند قطرے پی کر جسم میں وقتی گرمی اور دماغ میں عارضی چمک پیدا کرنے کی کوشش کی اور پھر ایسے پھسلے کہ دن رات مدہوش رہنے لگے۔یہی حال افیون اور مارفیا اور بھنگ، چرس وغیرہ کے استعمال کا ہے کہ ان چیزوں کا تھوڑا تھوڑا استعمال بالآخر زیادہ استعمال کی طرف دھکیلتا ہے اور ساحل سمندر کے پایاب پانی میں کھیلنے والا انسان آخر کار غرقاب پانی میں پہنچ کر دم توڑ دیتا ہے۔اس لئے قرآن شریف نے شراب اور جوئے کے بعض فوائد کو تسلیم کرنے کے باوجود حکم دیا ہے کہ اثْمُهُمَا اكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا یعنی بے شک شراب اور جوئے میں بعض فوائد بھی ہیں لیکن ان کی مضرتوں کا پہلو ان کے فوائد کے پہلو سے بہت زیادہ بھاری ہے۔66 پس سچے مومنوں کو بہر حال ان چیزوں سے پر ہیز کرنا چاہیے۔1 : البقرة: 220