چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 108 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 108

108 اگر اس جگہ یہ سوال کیا جائے کہ چونکہ استثنائی طور پر بعض ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو اپنے آپ کو شراب کے قلیل استعمال پر روک سکتے ہیں اور ان کے متعلق اعتدال کی حد سے تجاوز کرنے کا خطرہ نہیں ہو تا تو کیا ایسے لوگوں کے لئے شراب کا محدود استعمال جائز سمجھا جائے گا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر گز نہیں بلکہ پھر بھی شراب کا استعمال کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہو گا کیونکہ اول تو اس قسم کے قوانین میں اکثریت اور عمومیت کے پہلو کو مد نظر رکھا جاتا ہے یعنی جب ایک چیز ملک و قوم کے کثیر حصہ کے لئے یقینی طور پر نقصان دہ ہو تو قانونی عمومیت کے پیش نظر یہ چیز قلیل حصہ کے لئے بھی حرام کر دی جاتی ہے کیونکہ اس کے بغیر اس قسم کے قوانین قائم نہیں رہ سکتے۔دوسرے اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ گو آج ایک شخص ضبط نفس سے کام لے سکتا ہے مگر کل کو وہ پھسل کر اپنے ضبط کو کھو نہیں بیٹھے گا۔تیسرے اس حدیث میں شراب کی ساری مضر تیں بیان نہیں کی گئیں بلکہ صرف مثال کے طور پر نشہ یعنی مدہوشی والی مضرت کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ شراب کے بعض نقصانات اس کے علاوہ بھی ہیں۔پس اگر بالفرض کسی خاص شخص کے متعلق شراب میں مدہوشی والی مضرت موجود نہ ہو تو پھر بھی وہ دوسری مضرتوں کی وجہ سے حرام سمجھی جائے گی اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اسے ہر صورت میں حرام قرار دیا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث میں ہمارے آقا صلی الیم نے ہمیں تین اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔