چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 66 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 66

66 ہر گز کوئی زائد بات نہیں تھی) خدا مان کر اب تک شرک کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہیں اور ہندوؤں کے ہزاروں دیو تا تو ایک کھلی ہوئی کہانی کا حصہ ہیں جسے بچہ بچہ جانتا ہے۔دوسر ا بڑا گناہ اس حدیث میں عقوق الوالدین بیان کیا گیا ہے۔عقوق کے معنی عربی زبان میں کسی چیز کو کاٹنے کے ہیں اور اصطلاحی طور پر اس کے معنی ماں باپ کی نافرمانی کرنا، ان کا واجبی ادب ملحوظ نہ رکھنا، ان کے ساتھ شفقت سے پیش نہ آنا اور انکی خدمت سے غفلت برتنا ہے۔والدین کی اطاعت اور خدمت کا فریضہ حقوق العباد سے تعلق رکھتا ہے اور دنیا کے حقوق میں غالباً سب سے زیادہ مقدس حق قرار دیا گیا ہے حتی کہ ایک دوسری حدیث میں آنحضرت لی یہ کم فرماتے ہیں کہ ماں باپ کی خوشی میں خدا کی خوشی ہے اور ماں باپ کی ناراضگی میں خدا کی ناراضگی ہے اور ایک اور حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنے والدین کے بڑھاپے کا زمانہ پایا اور پھر اس نے ان کی خدمت کے ذریعہ اپنے واسطے جنت کا رستہ نہیں کھولا، وہ بڑا ہی بد قسمت انسان ہے اور آپ کا ذاتی اسوہ اس معاملہ میں یہ ہے کہ جب ایک دفعہ آپ کچھ مال تقسیم فرمانے میں مصروف تھے تو آپ کی رضاعی والدہ آپ کے ملنے کے لئے آئیں آپ کی حقیقی والدہ آپ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھیں) آپ انہیں دیکھتے ہی میری ماں میری ماں کہتے ہوئے ان کی طرف لپکے۔ان کے لئے اپنی چادر بچھا کر انہیں بڑی محبت اور 1 : معجم الكبير للطبراني، باب عبد اللہ بن عمر و بن العاص الله 2 : صحیح مسلم کتاب البر والصلة ، باب ،غم من اردک ابویه او احدهما۔