چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 65 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 65

55 65 اچھی طرح سن لو کہ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے اور آپ نے اپنے ان آخری الفاظ کو اتنی دفعہ دہرایا کہ ہم نے آپ کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے دل میں کہا کہ کاش اب آپ خاموش ہو جائیں اور اتنی تکلیف نہ اٹھائیں۔تشریح : اس زور دار حدیث میں آنحضرت صلی ا ہم نے سب سے بڑے گناہوں کا ذکر فرماتے ہوئے تین ایسی باتوں کو چنا ہے جو روحانیات اور اخلاقیات کے تین مختلف میدانوں کی بنیادی باتیں ہیں۔یہ تین میدان (۱) حقوق اللہ (۲) حقوق العباد اور (۳) اصلاح نفس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔سب سے بڑا گناہ شرک ہے یعنی خدا کے مقابل پر جو ہمارا خالق بھی ہے اور مالک بھی ہے کسی ایسی ہستی کو کھڑا کرنا جو نہ تو ہمارا خالق ہے اور نہ مالک۔اس لئے شرک کا گناہ دراصل غداری اور بغاوت دونوں کا مجموعہ ہے یہ انتہا درجہ کی غداری ہے کہ جس ہستی نے ہمیں پیدا کیا اور ہماری دینی اور دنیوی ترقی کے اسباب مہیا کئے اس کے مقابل پر ایسی ہستیوں کے ساتھ تعلق قائم کیا جائے جن کا نہ تو ہماری پیدائش کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ ہماری بقا کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ ہے اور پھر یہ انتہا درجہ کی بغاوت بھی ہے کہ دنیا کے حقیقی مالک اور حقیقی حکمران کی حکومت سے سرتابی کر کے ایسی ہستیوں کے سامنے سر جھکایا جائے جنہیں ہم پر کسی نوع کا ذاتی تصرف حاصل نہیں لیکن افسوس ہے کہ آج کل ترقی یافتہ دنیا میں بھی ایسی قو میں پائی جاتی ہیں جن کا دامن ان کی بظاہر اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ تہذیب کے باوجود شرک کی نجاست سے پاک نہیں چنانچہ عیسائی اقوام حضرت مسیح ناصری کو (جن میں دوسرے نبیوں سے