چالیس جواہر پارے — Page 58
58 (کیونکہ اس جگہ سلطان کے مفہوم میں یہ سب لوگ شامل ہیں) انصاف کے رستہ سے بھٹکنے لگے اور ظلم کا طریق اختیار کرے تو وہ اخلاقی جرات سے کام لے کر اسے نیک مشورہ دیں اور حاکم کے رویہ میں اصلاح کی کوشش کر کے ملک میں عدل و انصاف کو قائم کرنے میں مدد دیں اور چونکہ جائز اور غصہ میں آئے ہوئے حاکم کو نیکی کا مشورہ دینا غیر معمولی جرآت چاہتا ہے اور بعض اوقات خطرہ سے بھی خالی نہیں ہوتا اس لئے آنحضرت صلی اللہ تم نے اس کوشش کو افضل جہاد کے نام سے موسوم کیا ہے۔حق یہ ہے کہ اسلام نے حاکم اور محکوم اور راعی اور رعیت کے حقوق میں ایسا لطیف توازن قائم کیا ہے کہ اس معاملہ میں اس سے بڑھ کر کوئی اور تعلیم خیال میں نہیں آسکتی۔سب سے اوّل نمبر پر اسلام نے بلا امتیاز قوم و ملت یہ ہدایت دی ہے کہ حکومت کے تمام عہدے (جس میں حاکم اعلیٰ سے لے کر سب سے نیچے کا افسر بھی شامل ہے) صرف اہلیت کی بناء پر تقسیم ہونے چاہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں آتا ہے۔إنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمُ انْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ 1 : النساء: 59