چالیس جواہر پارے — Page 59
59 یعنی حکومت کے تمام عہدے ایک مقدس امانت ہیں اور اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ یہ امانت صرف اہلیت رکھنے والے لوگوں کے سپر د کیا کرو اور پھر جو لوگ حاکم مقرر ہوں ان کا فرض ہے کہ کامل عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں۔“ اس کے بعد دوسرے نمبر پر اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ لوگوں کا فرض ہے کہ اپنے حاکموں کی پوری پوری اطاعت کریں اور ان کے احکام کو توجہ کے ساتھ سنیں اور شوق کے ساتھ بجالائیں۔اور پھر تیسرے نمبر پر اسلام یہ ہدایت فرماتا ہے کہ اگر کوئی حاکم انصاف کے رستہ سے ہٹنے لگے تو ماتحتوں کا فرض ہے کہ بروقت نیک مشورہ دے کر اس کی اصلاح کی کوشش کریں کیونکہ ملکی امن کے لحاظ سے یہ مشورہ ایک اعلیٰ قسم کے جہاد سے کم نہیں لیکن چونکہ بعض ماتحت لوگ اس معاملہ میں خود داری یا جلد بازی یا ناواجب رقابت یا ذاتی رنجش کے طریق پر غلط قدم اٹھا سکتے ہیں اس لئے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرعون کے معاملہ میں حضرت موسیٰ کو فَقُولا لَهُ قَوْلًا لينا (یعنی فرعون کے ساتھ نرم انداز میں بات کرنا) کے الفاظ میں ہدایت فرماتا ہے۔اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ ایسے امور میں کوئی خلاف آداب طریق یا گستاخی کا انداز یا بغاوت کارنگ اختیار نہیں کرنا چاہیے بلکہ جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں صراحت آئی ہے اگر بعض مظالم بر داشت کر کے بھی صبر سے کام لیا جا سکے تو وہ بہتر ہے تا کہ ملک کا امن اور قوم کا اتحاد خطرہ میں نہ پڑے اور یہی وہ وسطی تعلیم ہے جو دنیا میں حقیقی امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔45:16:1