چالیس جواہر پارے — Page 51
51 ہونا اس کے اس حق پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہو سکتا۔اس کے مقابل پر اس حدیث کے فلسفہ اخلاق کا پہلو یہ ہے کہ خواہ ہمارا واسطہ غیر کے ساتھ ہو یا کہ بھائی کے ساتھ ہمارا ہر حال میں فرض ہے کہ دنیا سے ظلم اور بدی کو مٹائیں اور نیکی اور انصاف کو قائم کریں۔کسی کے غیر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس پر ظلم کریں اور کسی کے بھائی ہونے کے یہ معنی نہیں کہ ہم ایک ظلم میں بھی اس کے معین و مدد گار ہوں۔اب غور کرو کہ بظاہر یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے کس قدر مخالف اور کتنی متضاد نظر آتی ہیں۔اگر ظالم بھائی کی مدد نہ کی جائے تو اخوت کی تاریں ٹوٹتی ہیں اور اگر ظالم بھائی کی مدد کی جائے تو انصاف ہاتھ سے دینا پڑتا ہے لیکن ہمارے آقا (فداہ نفسی) نے ان متوازی نہروں کو جو بظاہر ہمیشہ ایک دوسرے سے جدا ر ہتی ہوئی نظر آتی ہیں حکمت و دانش مندی کی ایک درمیانی نہر کے ذریعہ اس طرح ملا دیا ہے کہ وہ گویا ایک جان ہو کر بہنے لگ گئی ہیں۔فرماتے ہیں کہ اخوت ایک ایسا مقدس رشتہ ہے جو کسی حالت میں ٹوٹنا نہیں چاہیے۔میر ابھائی خواہ اچھا ہے یا برا، نیک ہے یابد ، ظالم ہے یا مظلوم بہر حال وہ میر ابھائی ہے اور اس کی اخوت کی تاریں کسی حالت میں کائی نہیں جاسکتیں لیکن خدائے اسلام ظلم کی بھی اجازت نہیں دیتا اور دشمن تک سے انصاف کا حکم فرماتا ہے اس لئے ان دو باتوں کو اس طرح ملاؤ کہ بھائی کی تو بہر حال مدد کرو لیکن اس کے ظالم ہونے کی حالت میں اپنی مدد کی صورت کو بدل دو۔اگر وہ مظلوم ہے تو اس کے ساتھ ہو کر ظالم کا مقابلہ کرو اور اگر وہ ظالم ہے تو اس کے ساتھ لپٹ کر اس کے ظلم کے ہاتھ کو مضبوطی کے ساتھ رو کو اور اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے عرض کرو