چالیس جواہر پارے — Page 50
50 10 بھائی خواہ ظالم ہو یا مظلوم اس کی مدد کرو عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا تَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ تنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ: تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ (صحیح البخار المظالم ، باب اعن اخاک ظالما او مظلوما) ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم فرماتے تھے کہ اپنے مسلمان بھائی کی بہر حال امداد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا کہ مظلوم ہو۔صحابہ نے عرض کیا۔یارسول اللہ ! مظلوم بھائی کی مدد کا مطلب تو ہم سمجھ گئے مگر ظالم بھائی کی مدد کس طرح کی جائے ؟ آپ نے فرمایا۔ظالم بھائی کی مدد اس کے ظلم کے ہاتھ کو روک کر کرو۔تشریح یہ لطیف حدیث فلسفہ اخوت اور فلسفہ اخلاق کا ایک نہایت گراں قدر : مجموعہ ہے۔فلسفہ اخوت کا پہلو تو یہ ہے کہ ایک مسلمان بھائی کی مد دہر حال میں ہونی چاہیے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔اخوت وہ چیز نہیں جسے کسی حالت میں بھی فراموش یا نظر انداز کیا جائے۔جو شخص ہمارا بھائی ہے وہ ہر صورت میں ہماری مدد کا مستحق ہے اور اس کا ظالم یا مظلوم