چالیس جواہر پارے — Page 52
52 کہ بھائی ہر حال میں میں تمہارے ساتھ ہوں مگر اسلام ظلم کی اجازت نہیں دیتا اس لئے میں تمہارے ہاتھ کو ظلم کی طرف بڑھنے نہیں دوں گا۔یہ وہ مقدس اصول ہے جو اس لطیف حدیث میں آنحضرت صلی ا یکم نے قائم فرمایا ہے۔یہ خیال کرنا جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی الل ولم نے محض زور دینے کی خاطر خاص قسم کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ورنہ مقصد یہی ہے کہ اگر تمہارا بھائی مظلوم ہے تو اس کی مدد کرو اور اگر وہ ظالم ہے تو اس کے خلاف کھڑے ہو جاؤ، بالکل غلط اور حدیث کے حکیمانہ الفاظ کے ساتھ گویا کھیلنے کے مترادف ہے۔اگر آنحضرت صلی للی کم کا یہی منشاء ہو تا تو آپ بڑی آسانی کے ساتھ فرما سکتے تھے کہ تم بہر حال ظلم کا مقابلہ کرو خواہ وہ تمہارے دشمن کی طرف سے ہو یا تمہارے بھائی کی طرف سے لیکن آپ نے ہر گز ایسا نہیں فرمایا بلکہ آپ نے اس فرمان میں بظاہر دو متضاد باتوں کو ملا کر ایک نہایت لطیف اور اچھوتا نظر یہ قائم فرمایا ہے جو یہ ہے کہ (i) بھائی بہر حال مدد کا مستحق ہے۔(ii) ظلم کا بہر حال مقابلہ ہو نا چاہیے۔(iii) اگر بھائی مظلوم ہو تو اس کی مدد کرو اور اگر بھائی ظالم ہو تو مدد کی نوعیت کو بدل کر اس کے ظلم کے ہاتھ کو روکو تاکہ اخوت بھی قائم رہے اور ظلم کا انسداد بھی ہو جائے۔