چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 14

14 کے متعلق استعمال نہیں کیا جاتا اور اس سے مراد ایسی ہستی ہے جو تمام عیوب سے پاک اور تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام علوم کی حامل اور تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے۔(دوم) فرشتوں پر ایمان لانا جو خدا کی ایک نہ نظر آنے والی مگر نہایت اہم مخلوق ہے۔فرشتے خدا کے حکم کے ماتحت اس کار خانہ عالم کو چلانے والے اور خدا کی طرف سے پیدا کئے ہوئے اسباب کے نگران ہیں اور فرشتے خدا اور اس کے رسولوں کے درمیان پیغام رسانی کا واسطہ بھی بنتے ہیں۔(سوم) خدا کی طرف سے نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان لانا جن کے ذریعہ دنیا کو خدا تعالیٰ کے منشاء کا علم حاصل ہوتا ہے۔ان کتابوں میں سے آخری اور دائمی کتاب قرآن شریف ہے جس نے پہلی تمام شریعتوں کو جو وقتی اور قومی نوعیت کی تھیں منسوخ کر دیا ہے اور اب قیامت تک قرآن کے سوا کوئی اور شریعت نہیں۔(چهارم) خدا کے رسولوں پر ایمان لانا جن پر وقتاً فوقتاً الہامی کتابیں نازل ہوتی رہی ہیں اور جو اپنے عملی نمونہ سے خدا کے منشاء کو دنیا پر ظاہر کرتے رہے ہیں۔ان میں سے آخری صاحب شریعت نبی اور خاتم النبیین ہمارے آنحضرت صلی اللہ کم ہیں جو سید ولد آدم اور فخر انبیاء اور افضل الرسل ہیں۔(پنجم) یوم آخر پر ایمان لانا جو موت کے بعد آنے والا ہے اور جس میں انسان نئی زندگی حاصل کر کے اپنے ان اچھے یا برے اعمال کا بدلہ پائے گا جو اس نے دنیا میں کئے ہوں گے۔