چالیس جواہر پارے — Page 13
13 1 چھ شرائط ایمان حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ قَالَ۔۔۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔الإيمان۔۔۔أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِهِ (مسلم کتاب الایمان باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔۔۔۔) ترجمہ : حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی نیم فرماتے تھے کہ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور یوم آخر یعنی جزا سزا کے دن پر ایمان لائے اور اس کے علاوہ تو خدا کی تقدیر خیر و شر پر بھی ایمان لائے۔“ تشریح : اس حدیث میں اسلام کی تعلیم کے مطابق ایمان کی تشریح بیان کی گئی ہے جو چھ بنیادی باتوں پر مشتمل ہے۔(اول) اللہ پر ایمان لانا جو دنیا کا واحد خالق و مالک خدا ہونے کی وجہ سے ایمانیات کا مرکزی نقطہ ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ عربی زبان میں اللہ کا لفظ خدائے واحد کے سوا کسی اور