بیاضِ نورالدّین — Page 22
۲۲ طلبی سوانش عمری کرتا ہے خدا تعالے اس کی حیاتی میں بہت برکت دے کیونکہ میرے بیانہ سے کی یاد گا یہ ہے ہمارے نواح کے گاؤں میں ہماری طلب کا غیر معمولی چرچا پھیل گیا اور جموں سے ایک شخص جو اس وقت بھی افسر پولیس میں وہ مدقوق ہو کر علاج کے لئے میرے پاس آئے اور شہر میں وہ ہمارے پڑوسی تھے ان کا نام لالہ متھر اداس ہے اس کے علاج تو بہت کیسے اور کامیابی ہوئی اور اس اثناء میں دیوان کبره پا رام وزیر اعظم حجتوں کا گذر پینڈوا دیناں میں ہوا ہر حال ویران صاحب اور متھرا اور اس کے مامولی بخشی صاحب نے سرکار محبتوں سے ذکر کیا ان دنوں میں ایک بہیمانہ ایسے فاتح میں گرفتار ہوا جس کا فالج پاؤں کے اطراف عصابہ سے شروع ہوا اور روز مرہ پڑھتا گیا۔پھر ہاتھ بھی مفلوج ہو گئے اس کے باپ نے میری طرف رجوع کیا۔طلب یہ نانی اس مرض کا سے جہاں تک میرا علم ہے خاموش ہے۔قواعد کلیہ سے کام لینا اس وقت میری طاقت سے باہر تھا۔نیا بہ دار ڈاکٹروں کا منکر تھا ڈاکٹری مشورہ بھی اس وقت میری سمجھ میں پورا نہ آیا غرض میں نے گہرائیل اور کلونجی اور شہد پلایا اور مسمل کے بعد اس کے نفرات ظہر یہ ایک بیلسٹر لگا دیا جس سے اس کا سانس ٹھہر گیا پھر میں نے اسے کچھ کو نین اور فولاد دو تین روز اور رحب فرفیون ہفتہ میں دوبارہ دنیا شروع کیا۔یہی اصول علاج تھے جو اس وقت کیئے اور کامیابی ہوئی اب بیماروں کا آنا گاؤں سے اور شہر سے بہت بڑھ گیا۔یہ قصہ بہت طویل ہے کہ مجھے کیسے امراض میرے پیش ہوئے اور کیسے کیسے تکالیف اٹھانے پڑے مگر قدرت کے عجائبات میں سے ایک عجوبہ لکھ کر اس حصہ کو ختم کرتا ہوں۔ایک رییس محرقہ میں گرفتار ہوا اور مجھے یقین تھا کہ ساتویں دن اس کو بحران ہوگا میں نے بہت توجہ سے علاج کیا اور روز بحران کی پہلی شب میں جب اسے بہت اضطراب ہوا تو اس کی ماں نے کہا کہ آج تیم چھ روز سے علاج کرتے ہیں اور کوئی وقت نہیں ملا۔کہ میرے بچہ کا تپ ٹوٹے اسلئے کسی اور طبیب کو بلاؤز وہ سارا قلق بحران کے عجائبات تھے اور خدا پر بھروسہ کرنے کے پاک سامان اس طبیب کا نام حکیم کہ ہم علی تھا کہ ایک خاندانی طبیب پنڈ دادنخان کا تھا۔وہ راتوں رات پہونچا اور اس نے یقین کیا کہ اب بحران کا وقت قریب ہے اور ایک پڑیہ بہت جلدی نکال کر وہاں بید مشک نیڑا ہوا تھا اس کے ساتھ کھلائی اور میری طرف دیکھ کر ہنسا اور ان کو شہا کہ یہ کیا تب ہے ابھی ہماری پریہ سے ٹوٹ جاویگا تھوڑے وقفہ کو یہ کے بعد مریض کو بحران ہوا اور طبیب کی بڑی عش عش کر گئے میرا ایمان خدا پر بڑھ گیا کہ وہ میرا کیسا معالج ہے جس نے مجھ کو سر ایک قسم کے کبر و نخوت سے بچانے کیلئے رحمت فرمائی اور مخلوق پر بھروسہ کرنے کے لئے ایک آن بھی مجھے نہیں چھوڑا اس نظارہ نے میرے ایمان کو بہت ہی بڑھایا۔اور حکیم کرم علی صاحب بے بھی ان سے انعام کیلئے کیا کہ ہم ایسے علاجوں کے لئے جاندار سے ورے نہیں ٹھہر سکتے اب ہم بغیر کا قصہ اس پر ختم کرتا کافی سمجھتے ہیں اگرچہ میں وہاں سالہا سال رہا ہوں اور بہت ہی اقسام کے مریض دیکھتے ہیں۔اب ہم جموں پہونچتے ہیں اور اس کا ظاہری سامان بخشی صاحب کے بھانجہ کی صحت تھی جموں پہونچے و ہاں میاں لال دین نام ایک ممتا نہ رہیں تھے ان کی لڑکی کو زیر کا ذب ہوئی اور اطباء نے قوابض سے کام لیا اور مریض کی حالت بہت ردی ہوگئی میاں لال دین کو تجھ سے ایک مذہبی ریخ تھا اور ہر بیمارہ کی نسبت