بیاضِ نورالدّین — Page 21
طلبی وانحصری نے اس کو پیگیر کالا اس کامیاب تجرہ سے مجھے ڈاکٹری طب کا بہت شوق ہوا مگر میری موجودہ حالت اور شواغل اس طرف جھکتے نہ دیتے ڈ ڈیڑھ برس کے بعد مجھے کچھ سبکدو ہوئی تو حضرت شیخ المشائخ پیر و مرشد حضرت شاہ عبد الغنی رحمتہ اللہ سے نیازہ حاصل ہوا اور اس طبیب روح کے باعث مدینہ پہلا گیا اور ان کے حضور بہت برکت رہا اس درمیان تمام دنیاوی شو اعمل چھوٹ گئے صرف ایک مخلص عنایت فرما جو عور توں کے تپ دق کے بڑے ماہر تھے ان سے کبھی کبھی طبی تذکرہ ہو جاتا تھا وہاں کی اقامت میں خصو د تجربہ کا خیال حضرت شاہ صاحب کی خاص تو جہالت کے باعث ہر گند نہ ہوسکا۔واپس ہوا۔اور گھر میں پہونچا توبہ آتے سہی مخالفت کا بازار علماء سے گرم ہو گیا پر بلا کسی قوم را حقق را وه است زیر آن گنج کرم بنهاده است میں نے ایک طبیب سے مشورہ کیا کہ میں یہاں طلب کروں تو اس نے کہا کہ تم یہاں کا میاب نہیں ہو سکتے کیونکہ میں مانگ لینے والا آدمی ہوں پھر بھی مجھے اس شہر میں پانچ رویہ سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور تم نے تر مانگنیا ہے اور تیری حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ دوا کا مفت دنیا تیری عادت میں دانیل ہو گا۔اور ان سے کسی تقریب میں یہ بات بھی کر چکا تھا۔کہ عاجین - شربت اور فصد کا طریق مجھے لمبا نظر آتا ہے تو اس نے کہا کہ یہاں کے عطارا اور جراح مخالفت کریں گے علماء کی مخالفت اس پہ علاوہ ہے میں نے تو گلا صلے اللہ اپنے۔ایک طالب علم کو کہا۔کہ یہ سرمہ بناؤ۔ست پھیل کرده باشه - سرمه سیاه ۲۰ ماشه - زنگا به ۳ ماشہ سفید کا شعری ہم لاشه افیون ۳ ماشہ سمندر یک نہر ماشہ اور اسی طرح کا ایک اور سرمہ جس میں افیون نہ ہو اور میں نے عصر کے بعد وضو کرتے ہوئے ایک شخص کی آنکھ کو غور سے دیکھ کر پہلا قسم سرمہ ڈال دیا اس کے دیکھا دی بھی ایک اور نے درخواست کی اس کو بھی ڈال دیا۔یہ ہمارا پہلا اشتہار تھا صبح بہت سے لوگ آئے اور سرمہ ہی طلب کیا ہمارے شہرمیں رطوبت کے زیادہ ہونے سے یہ بیماری بکثرت تھی۔بعض کو تزلی اور بعض کو معاری آشوب تھا اور بعض کے طبقات العین میں اس لئے ہم نے اطریفل کشتیری جس میں گل اسطو خودوس پڑتا ہے اس کی ہدایت کی اور بعض کے کان کے پیچھے یا کسی بڑی یا گردن پر مسٹر لگا دیا۔خدا کے عجائبات ہیں اس نذیر نے بڑی کامیابی کا منہ دکھلایا پھر ہمارے ایک اسی برس کے دوست فتح خان رئیس بہت ملا کرتے تھے اور ان کی اولا نہ نہ تھی میں تھے ان کو اضرار سے کہا کہ آپ شاعر بھی کر لیں اور انہوں نے کہا کہ تمہیں تو کبھی تحریک بھی نہیں ہوتی مجھے صاحب میزان الطب کا قول بگڑا گاه گاه میسر شده و حکم اکسیر دارد دیری دنیا اور میں نے کہا کہ آپ یقین کریں کہ آپ کامیاب ہوں گے آخر میرے اصرارہ یہ انہوں نے شادی کرتی اور میں نے سم الفارا اور عمدہ افیون کے ساتھ سیماب کا ایک مرکب بنا دیا اور اس نے کھانے پر معجون فلاسفر کی تاکید کر دی قدرت الہی سے ان کے گھر میں حمل تہوار اور لڑکی تولد ہوئی میں نے سر چند کیا کہ آپ لڑکی کو کسی اور کا دودھ پلائیں مگر نہ مانا اور قریبا وہی دوائی پھر دی اور اس سے پھر حمل ہوا اور لڑکا پیدا جو اب اللہ کے فصل سے محمد حیات نام اکسٹرا اسسٹنٹ ہے اور مجھے ہمیشہ اپنا چچا ہی لکھا