بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 23 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 23

بلیتی سوانحمری یاس۔کچھ اطباء نے بھی ماروسی کی ہوتی مجھے علاج کے لئے بلایا۔ع عدد شود منیب خیر گر خدا تو امد۔میں نے اس کے اس حال میں دیکھا کہ پیٹ پر چنہ جب اپنے خول کے اندر ہوتا ہے تو اس کی پیٹ پر کہتے ہیں جس کو پنجابی میں ڈٹھ اندر کہتے ہیں کی طرح اس میں غلاظت ہے اور مجھے اس میں یقین ہوا کہ زنجیر کا ذب ہے اور علاج میں غلطی سے مگر میں خطر ناک حالت میں گجرات نہ کر سکا کہ کوئی امر ظاہر کر دیں اس وقت مجھے طب جدید تے یہ فائدہ دیا کہ موجودہ طبیب جو اس وقت وہاں حاضر تھے سب طلب انگریزی سے ناواقف تھے میں نے ایک مرکب ایسا بنادیا جس میں پوڈا فلین تھی اور وہ تشخیص کارگر ہوگی اگر دوست تھے تو گیارہ رہ گئے دوسرے دن بھی میں نے دیہی ترکیب استعمال کی جس پر انہوں نے مجھے با وجود کدورت کے ایک عمدہ با رفتندی یا بومعہ چین دیا اور کچھ خلعت دے دیا۔دوسری تقریب یہ ہوئی کہ چونگی کے افسر کو تولیے شدید ہوا اور نصف رات کے قریب مجھے بلایا اور میں نے یہ سوچ لیا کہ شدت درد کے باعث مسہل تقید نہیں ہوتا اس نئے میں نے افیون کمیوچ اور نوشادر کا مرکب اپنے پاس سے دے دیا جس سے اس کی قولنج دور ہوگئی۔پھر راجہ پونچھ کو ایام مفیہ میں جب کہ وہ قلعہ یا ہوس معہ میر کار جموں کے مقیم تھے دوستطار یا جسے ڈنسٹری کہتے ہیں نے آدما یا۔وہاں سیلوس اسبغول اور انجبار اور شیرہ بکن نے مجھے تحریک دی کہ میں سندی طب پڑھوں کیونکہ یکن کی نسبت صرف بندی طب راہ نما ہوئی تھی اس کام کے لیئے پنڈت ہر نامل اس بوڑھے پنڈت منتخب کیے اور ان سے امرت سا گھر اور شسرت سبھا پڑھا اور طب جدید کے متعلق سے بہت سی کتابیں منگو اگر مطالعہ کیں اور پنڈت صاحب کی ہیں ایسی خدمت کرتا تھا کہ بعض وقت ان کے حقہ کے لئے عمدہ قسم کی تالیاں کشمیر سے منگو آنا تھا اور وہ بھی تجھے بیچوں سے کم عزیز نہیں سمجھتے تھے اس میرے پڑھنے کی ہر مہاراجہ جہتوں کو کی گئی کہ یہ شخص ابھی طلب پنڈت غیر ہر نامد اس سے پڑھنا ہے جو آپ کا ادنے نوکر ہے مجھے جب پو چھا گیا کہ تم پنڈت ہر نا مل اس کی تواضع پر بار میں زیادہ کیوں کرتے ہو تو میں نے کہا کہ وہ میرے استاد ہیں اس میری گفتگو تے رئیس کے دل پر بہت ہی بڑا اثر کیا۔اور بڑی عظمت سے مجھے دیکھنے لگا۔ان دنوں میں جو میرے مولا نے میری نخوت کا علاج کیا وہ بھی عجب ہے کہ میاں لال دین بیٹا فیروز الدین جو مجھ سے ولی تعلق اور اخلاص اور گہری محبت رکھتا تھا وہ عالم شباب میں چیچک میں مبتلا ہوا۔اور مر گیا میرے سامنے ہی اس نے جان دی اس صدمہ کو اللہ بہتر جانتا ہے کہ مجھ پر کیا گذری اور مجھے یہ واقعہ اب تک بھی تکلیف دتیا ہے کہ کوئی تذکیر وہاں کام نہ دے سکی بہت ہی کریں تاریں مگہ نا کامی رہی فضل کی باتیں ہیں۔۔جموں میں خلوص محبت کا جو پاک نمونہ میں نے دیکھا ہے وہ شیخ فتح محمد اور اس کے شمارے کنبہ کی عورتوں اور بچوں اور نوکروں کا حسن اخلاق تھا جو بلا کسی بدل کے میرے ساتھ سالہا سال رہا۔اور ایسی تک بھی ہے اور ان کے - بھائی شیخ ، ام الدین کا نمبر دویر اور شیخ علی محمد تاجر وزیر آباد مقیم جموں نمبر پر تھا۔اور اب تک ہے۔مندروں میں ہمارے بڑے عنایت فرما دیوان گوبند سہائے اور ان کے بعد دیوان لچھمند اس اور پھر سردار لال من اور سردار موتی رام ہیں اور تھے جن کو تمہارے طبی مشوروں کے علاوہ ہم سے خاص طور پر خطر ناک معرکوں میں سلوک کرنے کا موقع ملا۔اور ہم ان کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے اور کشمیر میں راجہ عطا محمد خاص رئیس باڈی پورہ اور راجہ فیروز خان اور راجہ قطب الدین خاص ذکر کے قابل ہیں اور ان میں طبی تذکرے بھی موجب ذکرہ ہیں مگر بات لمبی ہوتی جاتی ہے صرف اتنا بتا دیتے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص ہو خطرناک ضعف باہ میں گرفتار تھا اس نے تجھے کیا کہ کوئی حاص