بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 24 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 24

جلتی ہوا بھر کی ۲۴ طور کی دوائی آپ مجھے ہیں اور میں نے اس کو یہ نسخہ زوجام عشق رپور را نسخہ نہا کر دیا۔عین کے استعمال کے بعد اس نے میری اور میری بیوی کی دعوت اپنے گھر میں کی اور اس کی بی بی نے میری بیوہ کیا کے ہاتھ میں سوہنے کے بڑے بڑے کنگن بہت محبت سے ڈال دیئے اور خونہ اس شخص نے مجھے قیمتی گھوڑے باصرارہ دیدئے ہم تو یہ نسخہ بھی مفت ناظرین کے پیش کرتے ہیں جس سے ہم نے اتنا فائدہ دنیوی اٹھایا تھا۔اب اس قصہ کو ختم کرتے اور صرف یہ تنہاتے ہیں کہ مہاراجہ پونچھ موجودہ کو زلزلہ میں ایک قسم کا اختلاج قلب پیدا ہوا اس وقت ان کا علاج ایک سال کے قریب کیا جب کامیاب ہو گیا تو انہوں نے بہت ہی جلد اپنے دینیو کی غراض سے کام لینے کے لئے اور مجھے سردار امر سنگھ کا حامی قرار دے کہ ایک مقدمہ کی تباہ الہی یہ قصہ اس لئے ہے کہ کوئی طبیب کسی امیر یہ کامیابی کی بنا پر گھمنڈا اور بھروسہ نہ کرے اور اسباب دنیا پر مغرور نہ ہو میں نے بہت تجربہ کیا ہے اللہ تعالے جہاں سے چاہتا ہے وہاں سے ہی سب کچھ دلا سکتا ہے اور کامیابیوں کے ساتھ ناکامیاں اور ناکامیوں کے ساتھ کامیابیاں ملا دنیا ہے وہ سمیع و علیم ہے میرے دل میں بعض دفعہ شیطانی وسوسہ آتا تھا۔کہ اس نوجوان پر میرے بڑے احسان ہیں اور اس کی کامیابی محنت کے ساتھ اور اس کی شرافت کے ساتھ ملکر جب اس کے باپ کے خدمات اور شکریہ یا دلائیں کے تو یہ شخص ہمیشہ ہمارا مشکور رہے گا۔مگر باپ کے مرنے کے بعد اس نے ہمارے ایڈا کی کوشش کی گو کہ خدا تعالے اس میں ہمیشہ انیسی ایناؤں سے بچاتا رہتا ہے یہ ان کے پاس ان جمگھٹوں کا نتیجہ ہے جو ان کے ارد گرد رہتے ہیں ہم نے ان تمام قصوں کو صاف پنی سوانح عمری میں لکھا ہے جو ناظرین کے لئے بڑی بڑی عبرتوں کا موجب ہو گا اس لیکن ہم نے اپنی غلطیوں کا اعتراف اور نا تجربہ کاریوں کا اعلان کیا ہے اور مفصل وہ اسباب بیان کیے ہیں جن کے نتائج ہم نے اپنی آنکھوں دیکھے اور تمام ماریبی مباحثات اور خدا کی امانتیں ہی اس میں مذکور ہیں سے لطیفہ اور طبیب کے لئے احتیاط اور جرات جب میں نیا نیا بھیرہ میں مطب کرتا تھا ان دنوں میں ایک سید جس کو ناک کوئی مرض تھا میرے پاس آئے اور میں نے اپنے ناقص علم کے سبب سے بنایا کہ گدھے کی تازہ لید کا پانی ناک میں ڈالو شاہ صاحب نے سمجھا کہ تمسخر کرتا ہے اس لئے ہم کو جو کچھ انہوں نے کہا اس میں یہ فقرہ بہت لطیف ہے کہ آخر موتر لکھے میں نہ اور جنوں میں ایک دفعہ میں اتوار کے روز مربہ آملہ ایک شخص کو نہلایا تو انہوں نے کہا کہ آپ کو اتنی بھی خیر نہیں کہ آج اتوار ہے اس واسطے رسم و رواج کا دیکھنا بھی طبیب کے لئے ضروری ہے۔