بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 20

طبی سوانحمری راستہ میں ہم نے حضرت شاہ ربیع الدین ہو ہما ر ے شیخ المشائخ شاہ ولی اللہ صاحب کے بڑے تھے ان کے گنجے شہیدوں کو دیکھنے اور غیرت حاصل کرنے میں بہت فائدہ اٹھایا وہاں شاہ صاحب کو کنگن دلی کہتے تھے۔بہو بالی کے واقعات بہت بھی عجیب ہیں مگر طبی امور کے متعلق صرف دو واقعہ قابل ذکر میں میں نے نہایت عمدہ دو صدریاں بنوائی تھیں جو مجھے ہمیشہ پہننے کی عادت تھی ان میں سے ایک چوری ہو گئی مجھے یقین ہوا کہ طالب علمی کی حالت میں یہ ایک مصیبت ہے مصیبت پر صبر کرنے والے کو نعم البدل لمتا ہے وہ سرمی صدر ی کو اس کے شکریہ میں دے دیا۔تھوڑے دنوں کے بعد ایک امیر کبیر لڑکے کو سوزاک مگا اس نے اپنے آدمی کو کہا کہ کوئی ایسا طبیب جی کو لوگ نہ جانتے ہوں بلا لانہ مگر وہ بنی ہوئی روائی نہ دے بلکہ سہل دوائی بتلا دیورے اور ایسی بھی نہ ہو کہ جیس کے بہانے میں مجھے عام نوکروں کو اگاہی کرنی پڑے بین کو کہا تھا ان کا نام پیر ابو احمد مجددی ہے انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم طبیب ہے اور اس کے طبیب ہونے سے لوگ نا واقف ہیں میں اس کو اپنے ساتھ لاؤنگا اور وہ مجھے وہاں لے گیا وہ تو جوان اپنے گھر کے ایک والان کے آگے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔وہاں ایک با تیجہ تھا رہیں ہمارے لیئے کر میاں منگوائیں میں نے اس کا حال دریافت کر کے کہا کہ بیج کیلا کا ایک چھٹانک پانی صاف کر کے اس میں یہ شورہ قلمی جو آپ کے والدان میں بارود کے لئے رکھا ہے کئی دفعہ ہیں اور شام تک مجھے اطلاع دیں میں لیکر چلا آیا اور قدرت الہی سے اس کو شام تک تخفیف ہو گئی اور اس نے مجھے ایک گراں بہا ضلعت اور اتنا روپیہ دیا کہ مجھ پر میچ شرق ہو گیا ساتھ ہی یہ بات ہوئی کہ مجھے شدت بخار میں سیلان اللعاب خطر ناک رنگ میں شروع مہور کی جس میں پانی یو وار اور سیاہ رنگ لکھتا تھا ایک شخص حکیم فرزند علی نے مجھے رائے دی کہ آپ کا وطن اگر قریب ہے تو جلد پہلے جاویں اس انتزاعی مواد سے بچنے کی کوئی امید نہیں اور شام کے قریب ایک بزرگ جو وہاں مقیم طلبہ العلم تھے اور نہایت مخلصانہ حالت میں تھے انہوں نے مجھ سے آ کر پوچھا کہ میں بوڑھا ہوں میرے منہ سے لعاب آتا ہے کوئی ایسی چیز تبار کو افطار کے جو وقت کھا لیا گھروں میں نے کا مربہ آملہ باریسی دانہ الاچی ورق طلاء سے افطار کریں وہ یہ نسخہ پوچھ کر میں واپس آئے اور ایک مرتبان مرتبہ اور بہت سی الانچیاں اور دفتری ورق طلاء کی میرے سامنے لا رکھی اور کہا کہ آپ کے منہ سے بھی لعاب آتا ہے آپ بھی کھائیں اور میں نے ان کو کھانا شروع کیا ایک آدھ کے کھانے سے مجھے چند منٹ کی تخفیف ہو گئی جب پھر پانی کا آغاز ہوا تو ایک اور کھا لیا غرض مجھے یاد نہیں کہ کس قدر کھا گا مگر عشاء کے بعد مجھے بہت تخفیف ہو گئی اور میں نے بجائے وطن کے تحرمین کا ارادہ کر لیا۔زمین میں جن شیوخ سے میں پڑھتا تھا ان میں سے ہوشیخ الحدیث تھے ان کے گھر میں قلاع کا مرض ہوا اور اطباء کے ناز سے وہ تنگ آگئے میں نے گناہ سمجھا اور یہ تحر یا کر پیش کیا شورہ حکمی بر ماشه کنهر یو ماشه الا بیچی خورده ۲ ماشه - گل سرخ ماشہ کا نور ماشہ۔تو تیائے سیز بریاں رتی شاید کچھ کمی بیشی بھی ہو مگر اس کے استعمال نے معافائدہ دیا اور شیخ نے پوچھا کہ ایسا نسخہ اگر طبیب بنا سکے نو عمدہ بات ہے مگر یہ لوگ بہاتے نہیں وہاں ایک اور امر میری طبعی توجیہ کے بڑھانے کا نیا نہ پیدا ہوا کہ ڈاکٹر محمد وزیر خان صاحب جو ہمارے شیخ مولوی رحمتہ اللہ صاحب کے بڑے دوست اور مناظرہ اگرہ میں شامل تھے مولوی صاحب کے مکان پر ان سے تعارف ہوا اور ان دنوں میں ایک شریف کو تنگ شانہ تھا چونکہ فرانس کے ساتھ وہاں کے شرکاء کا تعلق تھا وہاں سے وہ آلہ جس سے پتھر کی کو پیکر نکالتے ہیں منگوایا گیا اور ڈاکٹر واجب