بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 19 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 19

طبی سوانحعمری 19 ✔ نہ کر سکا اور مجھے اس وقت یا د بھی نہیں کہ اس میں کیا تھا۔مگر اس بیاض کو میں نے مطب میں منی چھوڑ دیا۔اور میں بھی اپنے کمرہ میں چلا گیا کسی دو سر وقت علکیم صاحب آئے اور بیاض کو اس طرح کھلا پڑا دیکھ کر اٹھا لیا اور مجھے دیا نہیں تے عرض کیا۔اس کو کیا کروں نسخہ تلف تو تشخیص پر مخصر ہے اور اس میں کوئی تشخیص نہیں اس پر تقسیم ہو کر کہا۔کہ بات تو ٹھیک ہے تیسری بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ درسی کتب میں قانونچہ ! مومبا لفرانی نعیمی سدید کی شرح اسباب کاملیا سلسلہ مجھے حیرت رہ تھا اور مجھے یقین تھا کہ جیسے اور علوم میں ملکہ پیدا ہوتے کے بغیر کیونکہ مفید ہوسکتا ہے اور جیسے درسی کتابوں میں علی العموم یہ غلط راہ اختیار کی گئی ہے کہ مختصرات اور حواشی میں وقت ضائع کیا جاتا ہے دودھ کا جلا ہو اچھا چھے کو بھی پھونکتے لگ گیا مجھے اپنی گذشتہ عمر کے ضائع ہونے کا اسخت ہی افسوس تھا اس لئے میں نے صرف قانون ہی کا پڑھنا اور یہ بھی صرف عملی حصہ کا پڑھنا پسند کیا تھا اسلئے حکیم صاحب نے ایک دن مجھے فرمایا کہ تم شرح اسباب کیسی کو ہمارے سامنے پڑھاؤ جو کومیں نے بطیب خاطر پسند کیا اور ایک شخص مولوی محمد اسحق ساکن نگینہ کو شرح اسباب حکیم صاحب کے سامنے پڑھائی شروع کی اوراس میں مجھے کامیابی ہوئی یہ قواعد ناظرین کے سامنے ذکر کر دیتے ہیں کہ کسی کو فائدہ ہو۔۔اب بھر بال پہونچنے سے ایک موقعہ کا کرنا ضروری ہے گنہ چھاونی سے ہم چلے اور میرے ساتھ ایک محمد نامی افغان نہایت خوبصورت نوجوان تھا ہم نے تھوڑا ہی فاصہ گزر سے طے کیا ہوگا کہ ایک زمیندار نے ہم کو کہا کہ اس سڑک پر مری ہے اور مری طے وہ بیضہ کو کہا تھا دوسری سڑک پر چلو۔لیکن محمود ایک بڑا متوکل آدمی تھا تو کل کے غلط مفتی میں میں آج کل علی العموم مسلمان گرفتارا اور کامل درست ہو گئے ہیں اس میں وہ بھی گرفتار تھا اس شخص کے کہنے پر پیر والہ کی میں تے بھی روکا۔مگر اس نے کہا خیر واحد ہے گیا اعتبار میں نے محمود کو کہا کہ میں بیزار ہوں مگر مجبور ہوں آخر ہم چیلے چند منٹ کے بعد محمود خود ہیضہ میں مبتلا میں گیا دور سے ایک گاؤں نظر آنا تھا ہم نے بہت کوشش کی جلد وہاں پہونچیں مگر ایک نہیں اجابت نے محمود کو مضمحل کر دیا آخر گاؤں کے پاس پہونچے گاوں والوں نے بالکل روک دیا اور ہم نے ایک اٹلی کے درخت کے نیچے ڈیرہ کر دیا محمود کی بات وقتا فوقتا بکڑتی گئی اور دو تین روز کے بعد اس نے انتقال کیا اس کے دفن کرتے ہیں اور اتنے روز کھانا نہ ملنے میں مجھے بہت وقت ہوئی مرنے کے بعد میں نے گاؤں کے نمبردار کو دفن کے لئے بہت کچھ منت کی مگر وہ ایک زر خطر کو نے گر راضی ہیں اور پھر بھی یہ کہاکہ میت کو ہم میں سے کوئی نہ اٹھائے گا ہاں ہم ایک گڑھ گہرا کھو دیتے ہیں میں نے محمود کو خود اٹھا کر گڑھے میں ڈالا۔اور نما با ترتیب یاد آئی جب مٹی برابر کر چکے تو وہ ایک مسلمان جو صرف ایک ہی گاؤں میں مسلمان تھا اور اس کا نام گرمن اور ایک اس کا بھائی اس کا نام ارجن اور جس کو ہر چند ہی میں نے اپنی امداد کے سے کہا تھا اور انکار کر چکا تھا اس کا اکلوتا بیٹا ہیضہ میں گر فتار ہو گیا۔کچھ تو مشر کا نہ خیال کے باعث اور کچھ اس لئے کہ مجھے محمود کا علاج کرتے بھی دیکھا تھا میرے پاس دوڑتا اور روتا ہوا آیا اور کہا ہمارے گھر چلو اور بھونین بھی کھاؤ میں چلا گیا اور اس لڑکے کو یہ دوائی دی گل ناشگفته عشر ۳ ماشہ سہاگہ بریاں دی ماشه و از فلعل ۵ ماشہ لونگ ۵ ماشه زنجبیل ۵ ماشہ گولی نہائی اورنیم کی نشتر ہال کے پانی کے ساتھ دی مغز یکہ کی مزاح کو مٹانا شروع کیا اور یسین کوٹ کر اس کے ناخنوں پر باندھ دیا۔لڑکا مبدل گیا اور اس کی ماں نے تازہ چو کا نا کہ مجھ کو اس کے اندر بیٹھا کر کھانا کھلا یا شہرمیں مرض کی بڑی شدت ہوگئی اور ہم وہاں طبیب ہوگئے نمبر وار نے ہمارا روپیہ واپس کر دیا اور مجھے کیا کہ آپ کو معہ آپ کے اسباب کے بھوپال پھونچا دونگا اور اس نے اپنے عہد کو بڑی وفاداری سے سنبھایا اسی د