بنیادی مسائل کے جوابات — Page 390
سوال: ایک خاتون نے بیوہ کے عدت کے دوران لجنہ کے پروگراموں میں شامل ہونے، نماز باجماعت کے لئے مسجد میں آنے اور عزیزوں کے گھروں میں جانے کے بارہ میں مسائل دریافت کئے۔نیز لکھا کہ بڑی عمر کی عورتوں کے لئے عدت کی پابندی نہیں ہونی چاہیئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 02 فروری 2019ء میں ان امور کے بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: جواب: بیوہ کی عدت کے احکامات میں تبدیلی کے حق میں آپ نے اپنے خط میں جو طلاق کے بعد اسی خاوند کے ساتھ نکاح والی دلیل ( کہ قرآن کریم کے مطابق طلاق کے بعد عدت پوری ہونے پر پہلے شوہر سے نکاح صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کسی دوسرے مرد سے شادی ہو اور پھر وہ طلاق دے۔لیکن اب دوسرے مرد سے شادی کے بغیر بھی پہلے خاوند سے نکاح ہو جاتا ہے۔پس جس طرح اس حکم میں نظر ثانی کی گئی ہے ، اسی طرح خاوند کی وفات کے بعد کی عدت میں بھی عورت کی عمر کے لحاظ سے نظر ثانی ہونی چاہیئے۔) دی ہے وہ غلط ہے۔نہ پہلے ایسا کوئی حکم تھا اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے۔آپ نے اپنی کم علمی کی وجہ سے طلاق کے بارہ میں دو الگ الگ احکامات کو خلط ملط کر دیا ہے۔اسی طرح بیوہ کی عدت کے بارہ میں بھی آپ اسلامی تعلیمات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔اسلام نے عورت کو اپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی استثناء نہیں رکھا اور نہ ہی اس حکم میں عمر کی کوئی رعایت رکھی ہے۔پس بیوہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ عدت کا یہ عرصہ حتی الوسع اپنے گھر میں گزارے، اس دوران اسے بناؤ سنگھار کرنے، سوشل پروگراموں میں حصہ لینے اور بغیر ضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں۔عدت کے عرصہ کے دوران بیوہ اپنے خاوند کی قبر پر دعا کے لئے جاسکتی ہے بشر طیکہ وہ قبر اسی شہر میں ہو جس شہر میں بیوہ کی رہائش ہے۔نیز اگر اسے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے تو یہ بھی مجبوری کے تحت آتا ہے۔اسی طرح اگر کسی بیوہ کے خاندان کا گزارا اس کی نوکری پر ہے یا بچوں کو سکول لانے ، لے جانے اور خریداری کے لئے اس کا کوئی اور انتظام نہیں تو یہ سب امور مجبوری 390