بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 389

مدت کو معین کرنے سے اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنے عرصہ میں حمل بھی ظاہر ہو جاتے ہیں اور اس کے علاوہ جو افسردگی کا عرصہ ہے وہ بھی گزر جاتا ہے۔اس لئے طلاق کے لئے تو عدت کا عرصہ وضع حمل یا تین مہینے رکھا ہے لیکن بیوگی کی صورت میں چار مہینے دس دن کی شرط بہر حال پوری ہونی چاہیئے۔اس لئے میرے نزدیک بیوگی کی صورت میں عدت کا عرصہ چار مہینے دس دن ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ حاملہ ہے کہ نہیں۔اگر حاملہ ہے اور حمل چار مہینے دس دن سے پہلے وضع ہو جاتا ہے تو تب بھی اس کی عدت چار ماہ دس دن ہی ہو گی جو وہ پوری کرے گی۔اور یہ آنحضور الم کے اس ارشاد کے مطابق ہے کہ عورت کے لئے جو سوگ ہے وہ چار مہینے دس دن کا ہے۔اور یہی قرآن کریم کا بھی حکم ہے۔(قسط نمبر 9، الفضل انٹر نیشنل 12 فروری 2021ء صفحہ 12) 389