بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 202

جھوٹ سوال: ایک دوست نے ان احادیث کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں رہنمائی کی درخواست کی جن احادیث میں جنگ کے دوران، عام لوگوں کے جھگڑوں اور میاں بیوی کے مابین صلح کرانے کے لئے جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 28 جنوری 2019ء میں درج ذیل رہنمائی فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: جواب: قرآن کریم اور مستند احادیث میں جھوٹ کو أَكْبَرُ الكَبَائِرِ ( یعنی بڑے بڑے گناہوں میں سے بڑا گناہ) قرار دیا گیا ہے۔اور آنحضور ﷺ نے اس سے اجتناب کی بار بار نصیحت فرمائی ہے۔جہاں تک آپ کے خط میں مذکور روایت کا تعلق ہے تو ایسی ایک روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ام کلثوم بنت عقبہ سے مروی ہے اور اس روایت کے الفاظ محتاط اور قابل تاویل ہیں۔چنانچہ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں لَيْسَ الكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَ يَنْمِي خَيْرًا۔یعنی جو شخص لوگوں میں صلح کروانے کے لئے نیک بات کرے اور اچھی بات آگے پہنچائے وہ جھوٹا نہیں ہے۔اس کی مثال ایسے ہے کہ صلح کروانے والا شخص ایک فریق کی دوسرے فریق کے بارہ میں کہی ہوئی باتوں میں سے اچھی اور نیک باتیں دوسرے فریق تک پہنچا دے اور اس فریق کے خلاف کہی جانے والی باتوں کے بارہ میں خاموشی اختیار کرے تو ایسا صلح کر وانے والا جھوٹا نہیں کہلا سکتا ہے۔سنن ترمذی نے حضرت اسماء بنت یزید سے اس روایت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے لا يَحِلُّ الكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثَ يُحَدِّثُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ وَالكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ یعنی تین باتوں کے سوا جھوٹ بولنا جائز نہیں۔خاوند اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لئے کوئی بات 202