بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 203

کہے۔لڑائی کے موقع پر جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کروانے پر جھوٹ بولنا۔پہلی بات یہ ہے کہ سنن ترمذی میں بیان یہ روایت قرآن کریم کے واضح حکم اور احادیث صحیحہ میں مروی دیگر روایات کے خلاف ہونے کی بناء پر قابل قبول نہیں۔اور دوسری بات یہ کہ اسلام نے جھوٹ کو کسی موقعہ پر بھی جائز قرار نہیں دیا۔بلکہ اس کے بر عکس یہ تعلیم دی کہ جان بھی جاتی ہو تو جانے دو لیکن سچ کو ہاتھ سے مت جانے دو۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس بارہ میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔چنانچہ حضور علیہ السلام اپنی تصنیف لطیف نور القرآن نمبر 2 میں ایک عیسائی کے اسی اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ۔۔۔اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ اِنْ قُتِلْتَ وَ أُخْرِقْتَ۔۔۔پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہو تو وہ قابل سماعت نہیں ہو گی کیونکہ ہم لوگ اسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ہاں بعض احادیث میں توریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔اور اُسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے مگر توریہ جو در حقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہے اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جو از حدیث میں پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو توریہ سے بھی پرہیز کریں۔۔۔مگر باوصف اس 203