بنیادی مسائل کے جوابات — Page 614
ولی سوال: نکاح کے ایک معاملہ میں دلہن کے والد کی وفات کی صورت میں دلہن کی طرف سے اس کے تایازاد بھائی کے ولی مقرر ہونے پر شعبہ رشتہ ناطہ کی طرف سے اعتراض اٹھانے پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 جنوری 2020ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایت عطا فرمائی۔حضور نے فرمایا: جواب: محترم امیر صاحب کینیڈا نے نکاح کی رجسٹریشن کا ایک معاملہ مجھے بھجوایا ہے جس میں لڑکی کے والد فوت ہو چکے ہیں اور اس کا کوئی بھائی بھی نہیں ہے۔اور لڑکی نے اپنے نکاح کے لئے اپنے تایازاد بھائی کو ولی مقرر کیا ہے۔لیکن آپ نے یہ کہتے ہوئے کہ تایازاد بھائی ولی نکاح نہیں ہو سکتا، اس نکاح کی رجسٹریشن کرنے سے انکار کر دیا ہے۔مجھے بتائیں کہ آپ نے کسی فقہ کے مطابق تایا زاد بھائی کے ولی نکاح بننے پر اس نکاح کی رجسٹریشن کرنے سے منع کیا ہے، جبکہ اس بچی کے نہ والد زندہ ہیں اور نہ کوئی بھائی فقہ احمدیہ کے مطابق تو والد کے بعد بچی کے عصبی رشتہ داروں میں سے جو قریبی رشتہ دار موجود ہو وہ لڑکی کا ولی بن سکتا ہے اور تایازاد بھائی کا شمار عصبی رشتہ داروں میں ہوتا ہے اور وہ لڑکی کا ولی بن سکتا ہے بشر طیکہ اس سے پہلے عصبی رشتہ داروں میں سے کوئی رشتہ دار زندہ نہ ہو۔لہذا اس نکاح کو رجسٹر کر لیں۔ہے۔(قسط نمبر 18، الفضل انٹر نیشنل 16 جولائی 2021ء صفحہ 11) 614