بنیادی مسائل کے جوابات — Page 615
سوال : نکاح میں لڑکی کی طرف سے اس کے بہنوئی کے بطور ولی نکاح تقرر کی بابت نظارت اصلاح ارشاد رشتہ ناطہ صدر انجمن احمد یہ ربوہ کے ایک سوال پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 30 اگست 2020ء میں درج ذیل ہدایات فرمائیں: جواب: لڑکی کے نکاح کے لئے اس کے والد یا بھائی کے موجود نہ ہونے کی صورت میں لڑکی کے عصبی رشتہ داروں میں سے جو درجہ کے لحاظ سے اس کے زیادہ قریب ہو گا وہی اس کا ولی ہو گا، بشر طیکہ وہ لڑکی کے مفاد کو ہر اعتبار سے پیش نظر رکھنے والا ہو جیسا کہ خود لفظ ولی اس امر کا تقاضا کرتا ہے۔لیکن اگر لڑکی کا کوئی عصبی رشتہ دار بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں پھر خلیفتہ المسیح اس کے ولی ہیں، اور ایسی بچی کے نکاح کے لئے وکیل کا تقرر نظام جماعت کے ذریعہ ہو گا اور یہی جماعت احمدیہ کا دستور ہے۔(قسط نمبر 27، الفضل انٹر نیشنل 21 جنوری 2022ء صفحہ 11) 615