بنیادی مسائل کے جوابات — Page 553
حقیقت تک پہنچتے ہیں۔“ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 157-156) اسی طرح جنت میں ملنے والے جوڑوں کی پاکیزگی کو بھی صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ وہ نہایت پاک اور نیک ساتھی ہوں گے جنہیں بیش قیمتی موتیوں کی طرح خیموں میں چھپا کر رکھا گیا ہو گا انہیں ان جنتیوں سے پہلے کسی جن و انس نے مس تک نہیں کیا ہو گا۔اور سب سے اہم بات یہ فرمائی کہ : وَ زَوَّجُنُهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ۔(سورة الطور:21) یعنی ہم جنتیوں کو ان نہایت خوبصورت ساتھیوں کے ساتھ بیاہ دیں گے۔پس جنت صرف عیش و طرب کی جگہ نہیں بلکہ نہایت قابل قدر اور ایک روحانی مقام ہے۔اگر چہ جنت کی نعمتوں کے نام دنیاوی چیزوں جیسے رکھے گئے ہیں لیکن ان سے مراد روحانی نعمتیں ہیں نہ کہ کوئی جسمانی اشیاء۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی دولتمند شخص کسی عالم سے کہے کہ میرے پاس مال ہے تو وہ عالم اپنے کتب خانہ کی طرف اشارہ کر کے کہے کہ میرے پاس تم سے بھی بڑھ کر خزانہ ہے۔اس جواب کا یہ مطلب ہر گز نہ ہو گا کہ ان کتابوں میں روپیہ بھر اہوا ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ جس چیز کو تم خزانہ کہتے ہو اس سے زیادہ فائدہ والی چیز میرے پاس موجود ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تفسیر کبیر میں اسی قسم کے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: اول تو یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم نے صاف طور پر بیان کر دیا ہے کہ اگلے جہان کے انعامات کا سمجھنا انسانی عقل سے بالا ہے پس اس دنیا کی زندگی سے اُخروی زندگی کا قیاس کرنا درست نہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(السجدہ : 18) یعنی کوئی انسان بھی اس کو نہیں سمجھ سکتا کہ ان کے لئے اگلے جہان میں کیا کیا نعمتیں مخفی رکھی گئی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے بارہ میں جو کچھ قرآن 553