بنیادی مسائل کے جوابات — Page 552
ان کا رب انہیں پاک کرنے والی شراب پلائے گا۔سورۃ المطففین میں فرمایا: يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّختُومٍ خِتُمُهُ مِسْكَ وَفِي ذلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ۔وَ مِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيْهِ - عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ۔(المطففين: 26 تا 29) یعنی انہیں خالص سر بمہر شراب پلائی جائے گی۔اس کے آخر میں مشک ہو گا۔اور چاہیے کہ خواہش رکھنے والے (انسان) ایسی (ہی) چیز کی خواہش کریں۔اور اس میں تسنیم کی آمیزش ہو گی۔ہماری مراد اس) چشمہ (سے) ہے جس سے مقرب لوگ پیئیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جنت کی شراب کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "شراب صافی کے پیالے جو آب زلال کی طرح مصفی ہوں گے بہشتیوں کو دیئے جائیں گے۔وہ شراب ان سب عیبوں سے پاک ہو گی کہ دردسر پیدا کرے یا بیہوشی اور بدمستی اس سے طاری ہو۔بہشت میں کوئی لغو اور بیہودہ بات سننے میں نہیں آئے گی اور نہ کوئی گناہ کی بات سنی جائے گی بلکہ ہر طرف سلام سلام جو رحمت اور محبت اور خوشی کی نشانی ہے سننے میں آئے گا۔۔۔اب ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ وہ بہشتی شراب دنیا کی شرابوں سے کچھ مناسبت اور مشابہت نہیں رکھتی بلکہ وہ اپنی تمام صفات میں ان شرابوں سے مبائن اور مخالف ہے اور کسی جگہ قرآن شریف میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ وہ دنیوی شرابوں کی طرح انگور سے یا قند سیاہ اور کیکر کے چھلکوں سے یا ایسا ہی کسی اور دنیوی مادہ سے بنائی جائے گی بلکہ بار بار کلام الہی میں یہی بیان ہوا ہے کہ اصل تخم اس شراب کا محبت اور معرفت الہی ہے جس کو دنیا سے ہی بندہ مومن ساتھ لے جاتا ہے۔اور یہ بات کہ وہ روحانی امر کیونکر شراب کے طور پر نظر آجائے گا۔یہ خدائے تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے جو عارفوں پر مکاشفات کے ذریعہ سے کھلتا ہے اور عقلمند لوگ دوسری علامات و آثار سے اس کی 552