بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 554 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 554

کریم میں بیان ہوا ہے وہ تمثیلی زبان میں ہے اور اس سے وہ مفہوم نکالنا درست نہیں جو اس دنیا میں اسی قسم کے الفاظ سے نکالا جاتا ہے۔۔۔جب قرآن کریم نے یہ کہا کہ مومنوں کو وہ جنتیں ملیں گی جن میں سایہ دار درخت اور نہریں اور نہ خراب ہونے والا دودھ اور نہ سڑنے والا پانی اور موم اور آلائش سے پاک شہد اور نشہ نہ دینے والی بلکہ دل کو پاک کرنے والی شراب ہو گی تو اس سے ان کے اعتراض کا جواب اس رنگ میں دیا کہ جن چیزوں کو تم نعمت سمجھتے ہو وہ حقیقی مومنوں کو ملنے والے انعامات سے ادنی ہیں۔جن نہروں کو تم نعمت سمجھتے ہو ان کا پانی تو سر جاتا ہے۔مومنوں کو وہ نہریں ملیں گی جن کا پانی سڑنے والا نہ ہو گا۔اور جن باغوں کو تم نعمت خیال کرتے ہو وہ اصل نعمت نہیں اصل نعمت تو وہ باغ ہیں جو کبھی برباد نہ ہوں گے اور وہ مومنوں کو ملیں گے۔جس شراب کو تم نعمت سمجھتے ہو اس کی مومنوں کو ضرورت نہیں وہ شراب تو گندی اور ا پر پردہ ڈالنے والی شئے ہے۔مومنوں کو تو خداوہ شراب دے گا جو عقل کو تیز کرنے والی اور پاکیزگی بڑھانے والی ہو گی۔اور جس شہر پر تم کو ناز ہے اس میں تو آلائش ہوتی ہے خدا تعالیٰ مومنوں کو وہ شہد دے گا جو ہر آلائش سے پاک ہو گا۔اور جن ساتھیوں پر تم کو ناز ہے وہ نعمت نہیں کیونکہ وہ گندے ہیں۔مومنوں کو اللہ تعالیٰ وہ ساتھی دے گا جو پاک ہوں گے۔جن پھلوں پر تم کو ناز ہے وہ تو ختم ہو جاتے ہیں مومنوں کو تو وہ پھل ملیں گے جو کبھی ختم نہ ہوں گے اور ہر وقت اور خواہش کے مطابق ملیں گے۔یہ مضمون ایسا واضح ہے کہ ہر شخص جو تعصب سے خالی ہو کر غور کرے اس کے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے اور اس کے لطیف اشارہ کو پاسکتا ہے مگر جو متعصب ہو یا جاہل۔اس کا علاج تو کوئی ہے ہی نہیں۔۔۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم میں جن باغوں اور نہروں اور پھلوں اور جس دودھ اور شہد اور شراب کا ذکر آتا ہے وہ اس دُنیا کے باغوں اور نہروں عقل : 554