بنیادی مسائل کے جوابات — Page 480
۔لیکن قرآن کریم نے ان حالات میں بھی جبکہ فریقین کو اپنے جذبات پر کوئی قابو نہیں رہتا اور د ونوں ایک دوسرے کو مارنے کے درپے ہوتے ہیں اور جذبات اتنے مشتعل ہوتے ہیں کہ مارنے کے بعد بھی جذبات سرد نہیں پڑتے اور دشمن کی لاشوں کو پامال کر کے غصہ ٹھنڈا کیا جاتا ہے، ایسی تعلیم دی کہ گویا مونہہ زور گھوڑوں کو لگام ڈالی ہو اور صحابہ نے اس پر ایسا خوبصورت عمل کر کے دکھایا کہ تاریخ ایسے سینکڑوں قابل رشک واقعات سے بھری پڑی ہے۔اس زمانہ میں کفار مسلمان عورتوں کو قیدی بنالیتے اور ان سے بہت ہی نارواسلوک کرتے۔قیدی تو الگ رہے وہ تو مسلمان مقتولوں کی نعشوں کا مثلہ کرتے ہوئے ان کے ناک کان کاٹ دیتے تھے۔ہندہ کا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبانا کون بھول سکتا ہے۔لیکن ایسے مواقع پر بھی مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ ہر چند کہ وہ میدان جنگ میں ہیں لیکن پھر بھی کسی عورت اور کسی بچے پر تلوار نہیں اٹھانی اور مثلہ سے مطلقاً منع فرما کر دشمنوں کی لاشوں کی بھی حرمت قائم فرمائی۔جہاں تک لونڈیوں کا مسئلہ ہے تو اس بارہ میں اس امر کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جبکہ دشمن اسلام مسلمانوں کو طرح طرح کے ظلموں کا نشانہ بناتے تھے اور اگر کسی غریب مظلوم مسلمان کی عورت ان کے ہاتھ آجاتی تو وہ اسے لونڈی کے طور پر اپنی عورتوں میں داخل کر لیتے تھے۔چنانچہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا کی قرآنی تعلیم کے مطابق ایسی عورتیں جو اسلام پر حملہ کرنے والے لشکر کے ساتھ ان کی مدد کے لئے آتی تھیں اور اُس زمانہ کے رواج کے مطابق جنگ میں بطور لونڈی کے قید کر لی جاتی تھیں۔اور پھر دشمن کی یہ عورتیں جب تاوان کی ادائیگی یا مکاتبت کے طریق کو اختیار کر کے آزادی بھی حاصل نہیں کرتی تھیں تو ایسی عورتوں سے نکاح کے بعد ہی ازدواجی تعلقات قائم ہو سکتے تھے۔لیکن اس نکاح کے لئے اس لونڈی کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی تھی۔اسی طرح ایسی لونڈی سے نکاح کے نتیجہ میں مرد کے لئے چار شادیوں تک کی اجازت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا یعنی ایک مرد چار شادیوں کے بعد بھی مذکورہ قسم کی لونڈی سے نکاح کر سکتا تھا۔لیکن اگر اس لونڈی کے ہاں بچہ پیدا ہو جاتا تھا تو وہ اُم الولد کے طور پر آزاد ہو جاتی تھی۔480