بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 481

علاوہ ازیں اسلام نے لونڈیوں سے حسن سلوک کرنے، ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنے اور انہیں آزاد کر دینے کو ثواب کا موجب قرار دیا۔چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے: قَالَ النَّبِيُّ يا الله أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَأَدْبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ (صحيح بخاري كتاب العتق بَابُ العَبْدِ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةً رَبِّهِ وَنَصَحَ سَيْدَهُ) یعنی نبی کریم یم نے فرمایا جس شخص کے پاس لونڈی ہو اور وہ اسے نہایت اچھے آداب سکھائے اور پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کرلے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔رو یفع بن ثابت انصاری روایت کرتے ہیں: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ لا يَقُوْلُ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَآءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَي وَلَا يَحِلُّ لِامْرِي يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَي امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّي يَسْتَبْرِئَهَا وَلَا يَحِلُّ لِامْرِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّي يُقْسَمَ (سنن ابي داؤد كتاب النكاح باب فِي وَطْء السَّبَايَا) میں نے رسول اللہ ﷺ کو حسین کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنا پانی کسی اور کی کھیتی میں لگائے۔یعنی حاملہ عورتوں سے ازدواجی تعلق قائم کرے۔اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ قیدی عورت سے وہ صحبت کرے جب تک کہ استبرائے رحم نہ ہو جائے۔اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ مال غنیمت کو تقسیم سے پہلے فروخت کرے۔پس اصولی بات یہی ہے کہ اسلام انسانوں کو لونڈیاں اور غلام بنانے کے حق میں ہر گز نہیں ہے۔اسلام کے ابتدائی دور میں، اس وقت کے مخصوص حالات میں مجبوراً اس کی وقتی اجازت دی گئی 481