بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 479

ہوتی تھیں بلکہ حربی دشمن کے طور پر وہاں آئی ہوتی تھیں۔علاوہ ازیں جب اس وقت کے جنگی قوانین اور اس زمانہ کے رواج کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس زمانہ میں جب جنگ ہوتی تھی تو دونوں فریق ایک دوسرے کے افراد کو خواہ وہ مر دہوں یا بچے یا عور تیں قیدی کے طور پر غلام اور لونڈی بتا لیتے تھے۔اس لئے وَ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری:41) کے تحت ان کے اپنے ہی قوانین کے تابع جو کہ فریقین کو تسلیم ہوتے تھے ، مسلمانوں کا ایسا کرنا کوئی قابل اعتراض امر نہیں ٹھہرتا۔خصوصاً جب اسے اس زمانہ، ماحول اور علاقہ کے قوانین کے تناظر میں دیکھا جائے۔اس زمانہ میں برسر پیکار فریقین اس وقت کے مروجہ قواعد اور دستور کے مطابق ہی جنگ کر رہے ہوتے تھے۔اور جنگ کے تمام قواعد فریقین پر مکمل طور پر چسپاں ہوتے تھے ، جس پر دوسرے فریق کو کوئی اعتراض نہ ہو تا تھا۔یہ امور قابل اعتراض تب ہوتے جب مسلمان ان مسلمہ قواعد سے انحراف کر کے ایسا کرتے۔اس کے باوجودہ قرآن کریم نے ایک اصولی تعلیم کے ساتھ ان تمام جنگی قواعد کو بھی باندھ دیا۔فرمایا: فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَي عَلَيْكُمْ (البقرة: 195) یعنی جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر ویسی ہی زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر کی ہو۔پھر فرمایا: فَمَنِ اعْتَدَي بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيْمٌ (المائدة:95) یعنی جو اس کے بعد حد سے تجاوز کرے گا اس کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔یہ وہ اصولی تعلیم ہے جو سابقہ تمام مذاہب کی تعلیمات پر بھی امتیازی فضیلت رکھتی ہے۔بائیبل اور دیگر مذاہب کی کتب مقدسہ میں موجود جنگی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں دشمن کو تہس نہس کر کے رکھ دینے کی تعلیم ملتی ہے۔مرد و عورت تو ایک طرف رہے ان کے بچوں، جانوروں اور گھروں تک کولوٹ لینے ، جلا دینے اور ختم کر دینے کے احکامات ان میں ملتے ہیں 479