بنیادی مسائل کے جوابات — Page 256
حُور سوال: جرمنی سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کیا کہ قرآن کریم میں حوروں کا جو ذکر ہے، غیر از جماعت لوگ اس کا غلط مطلب نکالتے ہیں۔ان خوروں سے اصل میں کیا مراد ہے؟ اسی طرح انہوں نے پوچھا کہ شادی کے بعد عورت کے لئے خاوند کا نام اپنا نا ضروری ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 دسمبر 2021ء میں ان سوالات کے بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: جنت کی نعماء کے بارہ میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ الم میں جو امور بیان ہوئے ہیں وہ سب تمثیلی کلام ہے اور صرف ہمیں سمجھانے کے لئے ان چیزوں کی دنیاوی اشیاء کے ساتھ مماثلت بیان کی گئی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ یعنی اس جنت کی مثال جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے ( یہ ہے)۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: (الرعد:36) فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةٍ عَيْنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ۔(السجده:18) یعنی کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لئے ان کے اعمال کے بدلہ کے طور پر کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیز میں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔اسی طرح حضور ال سلم نے فرمایا: يَقُولُ الله تَعَالَي أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَي قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا مِنْ بَلْـهِ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ (صحيح بخاري كتاب التفسير یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ 256