بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 257

نے دیکھا ہے ، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے۔وہ نعمتیں ایسا ذخیرہ ہیں کہ ان کے مقابل پر جو نعمتیں تمہیں معلوم ہیں ان کا کیا ذکر۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں: ”خدا نے بہشت کی خوبیاں اس پیرایہ میں بیان کی ہیں جو عرب کے لوگوں کو چیزیں دل پسند تھیں وہی بیان کر دی ہیں تا اس طرح پر ان کے دل اس طرف مائل ہو جائیں۔اور دراصل وہ چیزیں اور ہیں یہی چیزیں 66 نہیں۔مگر ضرور تھا کہ ایسا بیان کیا جاتا تا کہ دل مائل کئے جائیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 424) سورۃ السجدۃ کی مذکورہ بالا آیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: کوئی نفس نیکی کرنے والا نہیں جانتا کہ وہ کیا کیا نعمتیں ہیں جو اس کے لئے مخفی ہیں۔سو خدا نے ان تمام نعمتوں کو مخفی قرار دیا جن کا دنیا کی نعمتوں میں نمونہ نہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم پر مخفی نہیں ہیں اور دودھ اور انار اور انگور وغیرہ کو ہم جانتے ہیں اور ہمیشہ یہ چیزیں کھاتے ہیں۔سو اس سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں اور ہیں اور اُن کو ان چیزوں سے صرف نام کا اشتراک ہے۔پس جس نے بہشت کو دنیا کی چیزوں کا مجموعہ سمجھا اس نے قرآن شریف کا ایک حرف بھی نہیں سمجھا۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 398،397) ان نعمتوں کے مخفی رکھنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا کے چھپانے میں بھی ایک عظمت ہوتی ہے اور خدا کا چھپانا ایسا ہے جیسے کہ جنت کی نسبت فرمایا فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قَرَّةٍ آغین ( کہ کوئی جی نہیں جانتا کہ کیسی کیسی قرّة آغین ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے) در اصل چھپانے میں بھی ایک قسم کی عزت ہوتی ہے جیسے کھانا لا یا جاتا ہے تو اس پر دستر خوان وغیرہ ہو تا ہے تو یہ ایک عزت کی علامت ہوتی ہے۔“ (البدر نمبر 1، جلد 1، مؤرخہ 9 جنوری 1903ء صفحہ 86) 257