بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 255

میں چونکہ ہزار ہا جانور ہیں پھر یہ دقت ہوئی کہ اب کسے کھاویں اور کیسے نہ کھاویں۔اس مشکل کو اللہ تعالیٰ نے نہایت آسانی سے حل کر دیا ہے۔فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ حَلَالًا طَيْبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ۔یعنی حلال طیب کھاؤ۔اب گویا یہ بتادیا کہ جو چیز طیب ہو وہ کھاؤ چنانچہ ہر جگہ ہر قوم میں جو چیزیں عمدہ اور پاک ہوں اور شرفاء اور مہذب لوگ کھاتے ہوں وہ کھالو۔اس میں وہ استثناء جو پہلے بیان ہو چکے ان کا ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔طوطا کھا لینے میں کوئی حرج نہیں معلوم ہوتا ہے۔مگر میں نہیں کھایا کرتا کیونکہ ہمارے ملک کے شرفاء نہیں کھاتے۔ایک دفعہ ایک صاحب میرے سامنے گوہ (ضب) پکا کر لائے کہ کھائیے۔میں نے کہا آپ بڑی خوشی سے میرے دستر خوان پر کھائے مگر میں نہ کھاؤں گا کیونکہ شرفاء اسے نہیں کھاتے۔“ ( اخبار بدر نمبر 19 جلد 10 مؤرخہ 09 مارچ 1911ء صفحہ 1) (قسط نمبر 2، الفضل انٹر نیشنل 13 نومبر 2020ء صفحہ 12) 255