بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 200

روز مرہ کے معاملات میں عورتوں سے تعلق نہیں ہوتا اگر ان میں مجبوراً عورت کی گواہی لینی پڑ جائے تو قرآن کریم نے ہدایت فرمائی ہے کہ گواہی دینے والی عورت کے ساتھ ایک دوسری عورت کو بھی شامل کر لیا جائے (چونکہ ان معاملات کا تعلق عورتوں سے نہیں ہے لہذا) اگر گواہی دینے والی عورت کسی وجہ سے بات بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد کروا دے۔ورنہ گواہی اس اکیلی عورت ہی کی شمار ہو گی۔اور جو معاملات خاص طور پر عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں ایک اکیلی عورت کی گواہی پر حضور ا نے پورے معاملہ کا فیصلہ فرمایا۔چنانچہ صحیح بخاری میں یہ روایت مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن حارث نے ایک خاتون سے شادی کی۔اس پر ایک عام عورت نے آکر کہا کہ اس نے اس شادی میں بندھنے والے میاں بیوی دونوں کو دودھ پلایا ہے۔خاوند کے اس عورت سے ودھ پینے سے لاعلمی کے اظہار کے باوجود حضور اللیم نے ان میاں بیوی میں علیحد گی کروادی۔جہاں تک مخنث کے حصّہ وراثت کا تعلق ہے تو جس طرف کی علامتیں اس میں غالب ہوں گی، اسی کے مطابق اسے وراثت میں سے حصہ ملے گا۔اگر اس میں مرد کی علامتیں غالب ہیں تو مردوں والا حصہ اسے ملے گا اور اگر اس میں عورت کی علامات غالب ہوں تو اسے عورت تصور کر کے اس کے مطابق حصہ دیا جائے گا۔اگر دونوں قسم کی علامتیں برابر ہوں تو حضرت امام ابو حنیفہ کا مسلک ہے کہ دونوں حصوں میں سے چھوٹا حصہ اسے ملے گا۔(قسط نمبر 14، الفضل انٹر نیشنل 07 مئی 2021ء صفحہ 11) 200